(2 اکتوبر 2025): چلنے پھرنے سے بھی معذور ہونے کے باوجود پانچویں شادی کے خواہشمند بوڑھے کے بیٹے نے نا قابل یقین قدم اٹھا لیا۔
شادی کرنا ہر انسان کا حق اور ذاتی فیصلہ ہے اور اس کے لیے عمر کی کوئی حد بھی مقرر نہیں۔ اکثر عمر رسیدہ افراد بھی شادیاں کرتے ہیں اور ان کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ ایک نوجوان بیٹے نے اپنے بوڑھے باپ کی پانچویں شادی کی خواہش پر ناقابل یقین قدم اٹھا لیا۔
یہ واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں پیش آیا، جہاں ایک عمر رسیدہ شخص جو پانچویں شادی کر کے نئی زندگی شروع کرنا چاہتا تھا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے کو یہ بات پسند نہ تھی اور اس نے دوست کے ساتھ مل کر باپ کو زندگی کی قید سے ہی آزاد کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گونڈہ کے علاقے میں منصور خان نامی بزرگ شخص کو سوتے ہوئے اس کے ناخلف بیٹے معشوق نے اپنے دوست کی مدد سے قتل کر دیا۔ معشوق نے باپ کے سینے پر پستول رکھ کر گولی چلا دی، جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کی تفتیش کے دوران بیٹے اور اس کے دوست کے متنازع بیانات پر جب پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
پولیس نے بتایا کہ منصور خان جو عمر رسیدگی کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا، پانچویں شادی کی تیاری کر رہا تھا۔ بیٹا اس شادی کے خلاف تھا، لیکن منصور اپنی ضد پر اڑ گیا تھا، جس پر معشوق نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر گہری نیند سوئے ہوئے اپنے باپ کو موت کی نیند سلا دیا۔
75 سالہ بزرگ شخص کی 35 سالہ خاتون سے شادی، اگلے ہی دن چل بسا


