The news is by your side.

Advertisement

80 سالہ بزرگ گھر کا قبضہ چھڑانے کے لیے سالوں سے دربدر بھٹکنے پر مجبور

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 80 سالہ بزرگ اپنے گھر پر قبضے کے کیس کی سماعت کے دوران آبدیدہ ہوگئے، انہوں نے عدالت میں دہائی دی کہ زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر گھر بنایا، اب وہ بھی نہیں رہا۔ سنہ 2013 سے انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق 80 سالہ بزرگ پلاٹ پر قبضے کی فریاد لے کر سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوا، برسوں سے انصاف کے لیے دربدر بزرگ شیر علی دوران سماعت آبدیدہ ہوگیا۔

عدالت میں بزرگ نے کہا کہ غریب آدمی ہوں میرے پلاٹ پر قبضہ ہوگیا ہے، لی مارکیٹ کھجور بازار میں میرا پلاٹ ہے جس پر قبضہ ہے۔ بااثر شخص حاجی احمد نور نے میرے گھر پر قبضہ کیا ہے۔

بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ میرا گھر مسمار کر کے وہاں بلڈنگ بنا دی گئی، حاجی احمد نور نے میرا گھر اپنے بیٹوں کے نام بھی منتقل کر دیا ہے، گھر میں 11 لاکھ روپے موجود تھے مجھے صرف 3 لاکھ دیے گئے۔

بزرگ شہری نے دہائی دی کہ میرا خدا کے سوا کوئی نہیں ہے میری مدد کریں، سنہ 2013 سے انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی کی جمع پونچی لگا کر اپنے بچوں کے لیے گھر لیا تھا، اب میرے پاس رہنے کو اپنا گھر تک نہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے بھی شہری کے حق میں فیصلہ دیا پھر بھی گھر پر قبضہ کیا گیا، بزرگ شہری کے تمام دستاویزات مکمل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں