The news is by your side.

Advertisement

جھگڑا الیکشن کمیشن نہیں راجہ سلطان سے ہے: حکومتی وزرا

اسلام آباد: حکومتی وزرا نے چیف الیکشن کمشنر پر تنقیدی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھگڑا الیکشن کمیشن نہیں راجہ سلطان سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم سواتی اور مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے الیکشن کمشنر راجہ سلطان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے اپوزیشن پر زبردست تنقید کی۔

اعظم سواتی نے کہا کہ راجہ سلطان کس طرح الیکشن کمشنر بنے ہیں، ہمیں سب پتا ہے، ہمیں مت چھیڑیں، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان بھی الیکشن کمیشن کے خلاف بولے ہیں لیکن انھیں کتنے نوٹس ملے؟ الیکشن کمشنر بڑے میاں کے ہاتھ کی گھڑی اور چھوٹے کی چھڑی ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کمیٹی کمیٹی کھیلنا چاہتی ہے لیکن ہم آخری بار بیٹھ کر معاملات حل کرنا چاہتے ہیں، ای وی ایم کوئی نیا آئیڈیا نہیں یہ ماضی سے چلا آ رہا ہے، آئی ووٹنگ پر پہلی بار بات پی پی کی حکومت میں ہوئی تھی، ماضی میں پیپلز پارٹی آئی ووٹنگ، ای او ایم کی بات کر چکی ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین ، بابر اعوان کی اپوزیشن کو پیشکش

بابر اعوان نے کہا ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر حکومت آگے بڑھ رہی ہے، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت اگلا الیکشن چوری کرنے کے لیے ای وی ایم کی بات کر رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ الیکشن اصلاحات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ کہنا کہ حکومت نے دھاندلی کے لیے کچھ سوچا ہے یہ اخلاقی طور پر بھی غلط ہے، ماضی میں آئی ووٹنگ معائنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی نے فلپائن کا دورہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے کہا حکومت پر اگلے الیکشن کی چوری کا الزام قانونی تناظر میں غلط ہے، الیکشن تو عبوری حکومت کے تحت ہوں گے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومت قانون سازی نہ کرے ، جن کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے ان کو قانون بنانے کا حق ہے، ای وی ایم کا سفر جاری رہے گا اور منزل پر جا کر دم لے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں