The news is by your side.

Advertisement

آزاد کشمیر کے الیکشن، کون کہاں کھڑا ہے؟

آزاد کشمیر میں سیاسی دنگل کا میلہ آج سجا ہوا ہےتحریکِ انصاف و مسلم لیگ ن کی گرما گرمی اپنی جگہ تاہم پیپلزپارٹی کے جواں سال قائد بلاول بھٹو کی انٹری نے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے، موجودہ الیکشن یوں بھی پیپلزپارٹی کے لیے کڑا امتحان ہے اس باربلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابات کی مہم خود چلائی اور دھواں دھار تقریروں سے ماحول گرمائے رکھا ،لیکن کیا الیکشن میں ناکامی کو بلاول بھٹو کی حکمت عملی میں ناکامی سمجھا جائے گا۔

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابی شیڈول 30مئی کو جاری کردیا تھا،آزاد کشمیر کے تاریخ کے یہ دسویں پارلیمانی انتخابات ہیں جن میں مجموعی طور پر41 نشستوں کے لئے براہ راست پولنگ ہو گی، جن میں سے 29 آزاد کشمیر میں جب کہ 12 نشستیں پاکستان میں ہیں ۔

آزاد کشمیر ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام ہے اور اس کا باقاعدہ نام ہے، یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر (5،135 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے۔جس کی آبادی اندازاً 40 لاکھ ہے۔
3

آزاد کشمیر کے انتخابات کے تقابلی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہوتی ہے وہی جماعت آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنا لیتی ہے تا ہم اس بار پاکستان مین حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کو آزاد کشمیر الیکشن میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا کچھ حلقوں میں انتخابی اتحاد اور مسلم کانفرنس کی مسلم لیگ سے دوری کی بناء پر مشکلات کا سامنا ہے۔

2011 میں ہونے والے الیکشن میں میں 21 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے والی پیپلز پارٹی اس بار بھی اپنی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے کافی پر امید نظر ٓآتی ہے،اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں ایک تو جواں سال قائد بلاول بھٹو کی انتخابی مہم کی سربراہی نے کارکنان میں جذبے کی لہر دوڑا دی ہے جب کہ دوئم مسلم لیگ ن کی اعلٰی قیادت کی کشمیری انتخابی مہم سے لا تعلقی ہے، سوائے پرویز رشید کے کسی مسلم لیگی رہنما نے کشمیر کا دورہ نہیں کیا شاید اسی لیے لیگی کارکنان کے جذبے کچھ سرد پڑتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف سابقہ الیکشن کے برخلاف مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس کی دوری کا فائدہ بھی پیپلز پارٹی کو پہنچ رہاہے۔

1

آزاد کشمیر کی 41 نشستوں کے لیے پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ 39 امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ ن لیگ اور تحریک انصاف نے بالترتیب 38 اور 34 امیدوار اور مسلم کانفرنس نے 26 نشستیں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ کچھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔

2

آزاد کشمیر الیکشن 2016 کا ضلع وار صورتِ حال 

آزاد کشمیر میں 10 اضلاع، 19 تحصیلیں اور 182 یونین کونسلیں ہیں۔ آزاد کشمیر کے اضلاع میں ضلع باغ، ضلع بھمبر، ضلع پونچھ، ضلع سدھنوتی، ضلع کوٹلی، ضلع مظفرآباد، ضلع میرپور، ضلع نیلم، ضلع حویلی اور ضلع ہٹیاں شامل ہیں۔

آزاد کشمیر کے دارلخلافہ مظفر آباد کی 6 نشستوں پر گھمسان کا رن پڑنے کی امید ہے سیاسی تجزیہ نگار ان حلقوں میں کانٹے دار مقابلوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کی پیشن گوئی کرنے سے کترارہے ہیں،یاد رہے مسلم لیگ آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر بھی مظفرآباد کے حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور اپنی جیت کے لیے پر امید دکھائی دے رہے ہیں،مظفرآباد سے مسلم لیگ دو نسشستوں جب کہ پیپلز پارٹی 3 نشستوں کی کامیابوں کے لیے پرُامید ہیں جب کہ تحریک انصاف بھی ایک نشست میں میدان مار سکتی ہے۔

ضلع پونچھ کی 5 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن 4 نشستوں کے لیے کامیابی کی آس لگائے بیٹھی ہے کیوں کہ اس ضلع میں پاکستان پیپلز پارٹی کی گرفت قدرے کمزور ہے اور روایتی طور پر بھی یہ ضلع مسلم لیگ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے تا ہم مسلم کانفرنس اس ضلع میں مسلم لیگ  ن کے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔

ضلع کوٹلی میں 5 نشستیں ہیں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا ہے یہ روایتی طور پر پی پی پی کی نشستیں ہیں لیکن سکندر حیات خان مسلم کانفرنس کے سابق مرکزی رہنما کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کے باعث ضلع کوٹلی میں سخت انتخابی معرکے کا امکان ہے سکندر حیات خان کے صاحبزادے فاروق سکندر خان کوٹلی سے ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں تاہم اس ضلع میں پیپلز پارٹی 5 میں 4 نشستیں باآسانی جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ضلع میر پور میں 4 نشستیں ہیں اسی ضلع سے موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید بھی  الیکشن لڑ رہے ہیں جب کہ بیرسٹر سلطان بھی اسی ضلع سے الیکشن لڑ رہے ہیں،بیرسٹر سلطان پیپلز پارٹی سے ن لیگ اور ن لیگ سے اب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے  فارم میں نظر آرہے ہیں،یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس ضلع کے ووٹرز کی ایک کثیر تعداد انگلستان میں رہائش پذیر ہیں،عمران خان اپنے اثر و رسوخ کے باعث شہری علاقوں سے تحریک انصاف کی کامیابی کے لیے پرُ امید ہیں۔

ضلع باغ میں 3 نشستیں ہیں یہاں بھی پیپلز پارٹی مضبوط جماعت کے طور پر انتخابی دنگل میں فاتح بنتی نظر آتی ہےگو کہ ضلع باغ کی ایک نشست میں مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اس لیے اس بار ضلع باغ میں پیپلز پارٹی کو اس حلقے میں کچھ دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے تا ہم بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم میں شرکت نے پیپلز پارٹی کو مضبوط سہارا دیا ہے۔

یوں تو آزاد کشمیر کے شہری علاقوں میں ووٹ سیاسی وابستگی پر جب کہ دیہی حلقوں میں برادری اور ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دیے جاتے ہیں اس لیے ان انتخابات میں سایسی وابستگی سے زیادہ برادری اور ذات پات کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے شاید یہی وجہ ہے کچھ سیاسی چہرے جس سیاسی جماعت کا رخ کرتے ہیں وہی کامبابی کی منزل ہر گامزن ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے 12 نشستوں پر انتخابات 

دوسری جانب پاکستان میں ہونے والے 12 نشستوں کے انتخابات میں 9 حلقے مسلم لیگ کے مضبوط حلقے صوبہ پنجاب میں ہیں جہاں مسلم لیگ ن کی کامیابی کے واضع امکانات ہیں یہاں پیپلز پارٹی قدرے کمزور پڑتی نظر آتی ہے،اگر صوبہ پنجاب کی 9 میں 7 نشستیں بھی مسلم لیگ جیت پائی تو آزاد کشمیر کی قانون سازاسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی  تا ہم اگر تحریک انصاف کوئی اپ سیٹ کردے اور پنجاب سے کچھ نشستیں حاصل کرلے تو مسلم لیگ ن کا آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔

آزاد کشمیر کی طرز سیاست اور لوگوں کے بدلتے رحجانات پر گہری نگاہ رکھنے والے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس بار آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اکثریت وہی جماعت حاصل کر پائے گی جو پنجاب کی 9 نشستوں پر میدان مارنے میں کامیاب ہو پائے یعنی  اگر پنجاب کی 9 نشستوں پر تحریک انصاف کوئی اپ سیٹ نہ کر سکی تو مسلم لیگ 41 میں 22 نشستیں لینے میں کامیاب ہو جائے گی بہ صورت دیگر آزاد کشمیر الیکشن کا معرکہ پیپلز پارٹی مار لے گی۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں