The news is by your side.

Advertisement

الیکشن 2018: کون کہاں سے الیکشن لڑے گا

پاکستان میں انتخابات کا طبل بج چکا ہے اور 25 جولائی 2018 کو ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے، انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ملک بھر کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا سلسلہ جاری ہے جو کہ 11 جون یعنی کل تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق ا ب تک کل 7 ہزار امید وار کاغذاتِ نامزدگی جمع کراچکے ہیں اور یہ سلسلہ کل بھی جاری رہے گا۔

آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ ملک میں کس حلقے سے کس امید وار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں تاکہ الیکشن کے حوالے سے منظر نامہ واضح ہوسکے۔

سندھ سے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرانے والے امیدوار


پاک سرزمین پارٹی کے رہنماجمیل راٹھورنےاین اے227حیدرآبادسےکاغذات جمع کرادیئے۔ کراچی کے ڈپٹی میئر نےاین اے254سےکاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔

ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے وا لے رضا علی عابدی نے این اے243اور244سےکاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

پیپلزموومنٹ آف پاکستان کےانواراحمد نےاین اے243سےکاغذات جمع کرائے جبکہ ایاز موتی والا نے کراچی کے این اے 243 سے کاغذات ِ نامزدگی جمع کرائے ہیں ، وہ صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے بھی امید وار ہیں۔

شہدا د کوٹ کے حلقے این اے این اے202سے آفتاب شعبان میرانی نےنامزدگی فارم جمع کرائے ہیں ، ان کا تعلق شکار پور سے ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کل این اے 200 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے غیر متوقع طور پر کراچی کے تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے، وہ کل این اے248، 249 اور 250 سےکاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

پنجاب سے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرانے والے امید وار


مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے این اے 125 سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں جبکہ انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 127 کے لیے بھی کاغذاتِ نامزدگی اپنے نمائندے کے ذریعے جمع کرادیے ہیں۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے زعیم قادری اور پرویز ملک نے این اے 125 سے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے ہیں جبکہ خواجہ سعد رفیق نے این اے 134 سے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے ہیں۔

لاہور کے حلقہ این اے 123 کے لیے پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال ملک نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائیں ہیں۔

لاہور کے حلقہ این اے 135 سے تحریک انصاف کےکرامت علی کھوکھر نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروادیئے اور تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان نے این اے 129 سے جمع کروادیے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں پانچ سال تک تحریکِ انصاف کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنے والے ملک شفقت محمود نے این اے 130 سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں اورپی ٹی آئی کےکرامت علی نےاین اے135سےکاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کی سیاست کے دوسرے اہم مرکز گجرات کے حلقہ این اے 69 میں چوہدری پرویز الہیٰ نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کر ائے جبکہ این اے 68 سے چوہدری حسین الہیٰ نے اپنے کاغذات جمع کرائے ہیں ۔

تحریکِ انصاف نے چوہدری برادران کے ساتھ ہونے والی ممکنہ الیکشن سیٹلمنٹ کے سبب اس حلقے سے اپنے کسی امید وار کو ٹکٹ جاری نہیں کیے ۔

حال ہی میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے افضل گوندل نے آزاد امید وار کی حیثیت سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

راولپنڈی میں تحریک انصاف کے صداقت علی عباسی نےاین اے57سےکاغذات نامزدگی جمع کرادیے، اسی حلقے سے سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے بھی اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کرنے پرچودھری نثار نے قومی اورصوبائی اسمبلی کے2،2حلقوں سےکاغذات جمع کرادیے۔ قوی اسمبلی کے انتخابات میں چودھری نثار این اے63 اور این اے59سے میدان میں اتریں گے۔

راولپنڈی سے این اے59سے مسلم لیگ ن کے انجینئرقمراسلام نےکاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔

راولپنڈی میں ہی ایم ایم اےکےمیاں ظفریاسین نےاین اے61 سےکاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں ۔

سیالکوٹ میں خواجہ آصف نے این اے 73 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔ جبکہ منشااللہ بٹ،چوہدری اکرام کےاین اے73سےکورنگ امیدوارکےکاغذات بھی جمع کرادیے ہیں۔

خیبر پختونخواہ سے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرانے والے امید وار


ہری پور میں این اے17سے مسلم لیگ ن کےبابرنوازنےکاغذات نامزدگی جمع کرادیے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کےعمرایوب نےکاغذات جمع کرادیے ہیں۔

بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرانے والے امیدوار


جمعیت العلمائے اسلام ( ف) نے دس سال بعد حافظ حسین احمد کو این اے 266 کوئٹہ سے ایم ایم اے کا امید وا ر نامزد کردیا ہے، انہیں ٹکٹ نہ دینے سےجےیوآئی ف گزشتہ الیکشن میں ہارگئی تھی۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے تاحال اس حلقےسےتاحال امیدوارکااعلان نہیں کیا ہے۔


یہ خبر اپ ڈیٹ کی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں