الیکشن ایکٹ: وزیراعظم‘ اراکینِ پارلیمنٹ کے خلاف سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

الیکشن ایکٹ: وزیراعظم‘ اراکینِ پارلیمنٹ کے خلاف سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی

لاہور:ہائی کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے پر وزیرشاہد خاقان عباسی اور اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت بیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز پیر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے وزیرشاہد خاقان عباسی اور اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے لیے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی ۔

درخواست تحریک انصاف کے رہنما گوہر نواز سندھو اورعوامی تحریک کے اشتیاق چوہدری کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے نواز شریف کو پارٹی کا صدر بنانا سپریم کورٹ کے احکامات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت عظمیٰ نے پانامہ لیکس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور عدالتی فیصلے کے بعد آئین کے مطابق وہ اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی صدارت کی بھی اہل نہ رہے‘ تاہم ن لیگ اور اس کے اتحادیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی اور اب انتخابی اصلاحاتی ایکٹ کے ذریعے نواز شریف دوبارہ مسلم لیگ ن کے صدر بن گئے ہیں۔

پیپلزپارٹی نے بھی انتخابی اصلاحات بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا*

انہوں نے کہا کہ مطابق انتخابی اصلاحات ایکٹ صرف ایک نااہل شخص کو صدر بنانے کے لیے لایا گیا جو اسلامی تعلیمات اور آئین کی روح کے منافی ہے‘ الیکشن ایکٹ 2017 کے لیے ووٹ دینے والے اراکین پارلیمان نے آئین کے آرٹیکل 62 جی کی خلاف ورزی کی ۔

درخواست گزار کے مطابق آئین کے آرٹیکل 62 جی کے تحت کسی ایسے شخص کو عوامی عہدے کے لیے منتخب نہیں کیا جا سکتا جو ملکی وقار اور نظریہ کے خلاف کام کرے ۔

عدالت کے روبرو درخواست گزار نے استدعا کی کہ آئین سے متصادم قانون منظور کرنے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت ووٹ دینے والے اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے ‘ لہذا درخواست گزاروں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہئیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت بیس اکتوبر تک ملتوی کر دی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں