The news is by your side.

Advertisement

انتخابی اصلاحات ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے لیےدرخواست دائر

لاہور : انتخابی اصلاحات ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، جس میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے لیے ووٹ دینے والے اراکین پارلیمان نے آئین کے آرٹیکل 62 جی کی خلاف ورزی کی، اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کر دی گئی، درخواست تحریک انصاف کے رہنماء گوہر نواز سندھو نے دائر کی۔

جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت عظمٰی نے پانامہ لیکس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور عدالتی فیصلے کے بعد آئین کے مطابق وہ اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی صدارت کیلئے بھی اہل نہ رہے. تاہم ن لیگ اور اس کے اتحادیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی اور اب انتخابی اصلاحاتی ایکٹ کے ذریعے نواز شریف دوبارہ مسلم لیگ ن کے صدر بن گئے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق انتخابی اصلاحات ایکٹ صرف ایک نااہل شخص کو صدر بنانے کے لیے لایا گیا جو اسلامی تعلیمات اور آئین کی روح کے منافی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے لیے ووٹ دینے والے اراکین پارلیمان نے آئین کے آرٹیکل 62 جی کی خلاف ورزی کی۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 جی کے تحت کسی ایسے شخص کو عوامی عہدے کے لیے منتخب نہیں کیا جا سکتا جو ملکی وقار اور نظریہ کے خلاف کام کرے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئین سے متصادم قانون منظور کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی، چیرمین سینٹ سمیت ووٹ دینے والے اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے۔


مزید پڑھیں :  نوازشریف بلامقابلہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب


واضح رہے کہ دو روز قبل نااہل نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت کا اہل بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی منظور کرایا گیا تھا، جس کے بعد نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا صدر منتخب کرلیا گیا تھا۔

بل کی شق 203 میں کہا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کسی بھی سیاسی جماعت کی رکنیت اور عہدہ حاصل کرسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں