اسلام آباد (29 نومبر 2025): پاکستان کا انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا کیس سماعت کیلیے مقرر کر دیا گیا۔
پاکستان کا انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال قبل دائر ہوئی تھی جبکہ شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے 1989 میں اپیلیں دائر کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: چادر اور پرچی کی رسم غیر اسلامی، غیر قانونی قرار
تاہم اب رائے دہی کے موجودہ نظام کو غیر اسلامی قرار دینے کا کیس 5 دسمبر 2025 کو سماعت کیلیے مقرر کر دیا گیا، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 5 رکنی شریعت اپیلٹ بینچ سماعت کرے گا۔
شریعت اپیلٹ بینچ کم و بیش ڈیڑھ سال بعد تشکیل دیا گیا۔
اس سے قبل اگست 2024 میں سپریم کورٹ میں شریعت اپیلٹ بینچ کے انتخابی نظام غیر شرعی قرار دینے سے متعلق حکومتی اپیل پر سماعت کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی تھی کہ الیکشن ایکٹ کا جائزہ لے کر عدالت کو حکومتی ہدایات سے آگاہ کریں۔
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے حکومت سے ہدایات لینے کیلیے مہلت مانگ لی تھی۔شریعت اپیلیٹ بینچ اگست 2024 کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔


