The news is by your side.

Advertisement

کراچی والوں کیلیے بجلی مزید مہنگی

حکومت پاکستان کی جانب سے بجلی کے ٹیرف اور ٹیکسوں میں ترمیم کی گئی ہے۔

کراچی: حکومت پاکستان اور نیپرا کے قوانین اور قواعد ضوابط کی روشنی میں بجلی فی یونٹ قیمت اور ٹیرف میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

کے الیکٹرک کے زیر خدمت علاقوں سمیت پورے پاکستان میں نئے ٹیرف اسٹرکچر اور فی یونٹ لاگت کا اطلاق جولائی کے بلوں سے کردیا گیا ہے۔ ملک بھر میں بجلی کے نرخوں کا تعین کرنا اور اس کو صارفین سے بلوں کے ذریعے وصولی حکومت پاکستان اور نیپرا کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

ان تبدیلیوں میں زیرو ریٹڈ (Zero-rated) صنعتوں کو حاصل ریلیف کا خاتمہ اس کے ساتھ ساتھ تجارتی صارفین کو آن پیک On-Peak)) گھنٹوں میں دیے جانے والے ریلیف کا خاتمہ شامل ہے۔ ان تبدیلیوں میں تجارتی صارفین کے لیے ترمیم شدہ سلیب (Slab) کا حامل ریٹیلر ٹیکس (Retailer Tax) بھی متعارف کرایا ہے۔ نان ٹائم اف یوزNon-Time of Use)) گھریلو صارفین کو بھی اپنے ٹیرف میں تبدیلی اور اس کے حساب کے طریقہ کار میں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

پروٹیکٹڈ (Protected) اور ان پروٹیکٹڈ (Unprotected) صارفین:
وفاقی حکومت کے جولائی 7، 2022 کو جاری کردہ ایس آر او نمبر 1004 کے مطابق ان پروٹیکٹڈ نان ٹائم اف یوز صارفین(مثال کے طور پرایسے صارفین جنکا لوڈKW 5 سے کم ہے) کے لیے نرخ اور سلیب کا اسٹرکچرتبدیل ہوگیا ہے۔

نیپرا کی جانب سے اور حکومت پاکستان کے متعارف کردہ پاور سبسڈی پلان میں یہ پروٹیکٹڈ صارفین کی تعریف واضح کی گئی ہے۔ اس کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین وہ ہیں جو پچھلے 6 ماہ سے 200 یا اس سے کم بجلی کے یونٹ استعمال کررہے ہیں۔ باقی سارے نان ٹائم اف یوز گھریلو صارفین ان پروٹیکٹڈ کیٹگری کے زمرے میں آتے ہیں۔

اس سے قبل، ان پروٹیکٹڈ صارفین کے زمرے کو ان کی بلنگ میں ایک سابقہ سلیب کا فائدہ فراہم کیا جاتا تھا (یعنی ان کی بلنگ دو سلیب میں کی جاتی تھی)، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔ ان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے اب صرف ایک سلیب پر چارج کیا جائے گا جس میں ان کے یونٹ آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، نرخ کی قیمتیں میں بھی ترمیم کی گئی ہے تاکہ صارفین پر اثر کم سے کم پڑے۔

صنعتی صارفین کا بل
صنعتی صارفین کو حکومت پاکستان کی جانب سے پہلے ایک رعایت فراہم کی جا رہی تھی، جس کے مطابق وہ پیک آورز (peak hours) کے دوران بھی بجلی ان ہی نرخوں پر استعمال کرسکتے تھے جو آف پیک (off peak) کے اوقات میں ہوتے تھے۔یہ رعایت جون 2022 تک جاری تھی جس میں کوئی توسیع نہیں تھی۔ پیک کے اوقات کے نرخ اب صنعتی صارفین پر بھی لاگو ہوں گے۔

اسی طرح، زیرو ریٹیڈ (یا ایکسپورٹ اورینٹڈ) صنعتوں کو بھی 9 امیرکی سینٹ فی یونٹ کی مقررہ شرح پر بجلی فراہم کی جا رہی تھی، جو جون 2022 تک لاگو تھی، اب اس کو ختم کردیا گیا ہے۔ ان صنعتوں پر بھی اب عام صنعتوں والے نرخ لاگو ہوں گے۔

مندرجہ بالا چارجز کے علاوہ، یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کے الیکٹرک کے زیر خدمت علاقوں میں فیول چارجزایڈجسٹمنٹ کی مد میں لگنے والے معمول کے چارجز بھی جولائی کے بلوں میں لاگو ہوں گے۔

تجارتی صارفین کے لیے ریٹیلر ٹیکس
ملک بھر میں لاگو ہونے والے گورنمنٹ آف پاکستان فنانس ایکٹ 2022 کے مطابق، ایسے ریٹیلرجو اب تک رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کے لیے ریٹیلر ٹیکس میں بھی نظرثانی کی گئی جو یکم جولائی 2022 سے زیر اثر ہے۔ ایسے کمرشل ٹیرف والے صارفین جن کا بل صفر سے 30،000 پاکستانی روپے آتا ہے، ان سے کم از کم 3،000 روہے مہانہ وصول کیا جائے گا۔ ایسے کمرشل ٹیرف والے جن کا مہانہ بل 30،001 سے لے کر 50،000 کے درمیان ہے، ان سے 5،000 وصول کیا جائیگا۔ اور ایسے صارفین جن کا بل 50،001 سے تجاوز کرتا ہے ان پر 10،000 روپے مہانہ ٹیکس لاگو ہوگا۔

یاد رہے، ان ایکٹو انکم ٹیکس حضرات سے ٹیکس کی رقم کا دگنا وصول کیا جائے گا۔ مزید براں یہ ٹیکسز قابل وصول ہونگے چاہے صارفین احاطہ استعمال میں نہ بھی ہو۔

فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے):
فرنس آئل اور آر ایل این جی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے صارفین کے لیے بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نیپرا کے طے کردہ ٹیرف میکانزم کے تحت، بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی قیمتیں ریگولیٹر کی جانچ اورفیصلے کی روشنی میں صارفین سے ان کے بلوں کے ذریعے وصول کی جاتی ہیں۔ ریگولیٹر فیول چارجز کے لیے دیے جانے والے اپنے فیصلے میں اس کی وصولی کے مہینے کا بھی تعین کرتا ہے۔

مثال کے طور پر اپریل کے لیے اپنے فیصلے میں نیپرا نے کے الیکٹرک کو اختیار دیا کہ وہ اپریل کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد می 5.2718 فی یونٹ جولائی کے مہینے میں چارج کرے۔ مزید براں، نیپرا نے مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کودوحصوں میں وصول کرنے کا اختیار دیا؛ 2.6322 روپے فی یونٹ جولائی کے بلوں میں اور باقی 6.8860 روپے فی یونٹ اگست کے مہینے میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کے صارفین اپنے جولائی کے بلوں میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی دو انٹریاں دیکھیں گے، ایک اپریل کے اور دوسرا مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے لیے۔

تبدیلیوں کے بارے میں ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے صارفین کے پاس ان تبدیلیوں کے بارے میں کئی سوالات ہو نگے۔ ان کوفور ی اگاہی فراہم کرنے کے لیے ہم نے اپنی ویب سائٹ پر اس حوالے سے اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات کو اپڈیٹ کردیا ہے۔ یہ تبدیلیاں حکومت پاکستان کے قوانین اور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کے قوائد کے تحت متعارف کرائی گئی ہیں جن کا نفاذ پورے ملک پر ہوگا ”

Comments

یہ بھی پڑھیں