اسلام آباد : بجلی کی قیمتوں میں 1.64 روپے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے، جس سے صارفین پر 14 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر بری خبر سامنے آئی، فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 64 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے، جس سے صارفین پر 14 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں فروری کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست میں فراہم کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا فروری کے مہینے میں مجموعی طور پر 7 ارب 69 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کو 7 ارب 42 کروڑ 70 لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔

فروری کے لیے بجلی کی ریفرنس لاگت 6 روپے 73 پیسے فی یونٹ مقرر تھی، جبکہ اصل پیداواری لاگت 8 روپے 15 پیسے رہی جبکہ ڈسکوز کو فراہم کی جانے والی بجلی کی حتمی لاگت 8 روپے 37 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچی ہے۔

نیپرا اتھارٹی سی پی پی اے کی اس درخواست پر 31 مارچ کو باقاعدہ سماعت کرے گی۔ سماعت کے دوران اس بات کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں صارفین سے کتنا اضافی چارج وصول کیا جائے۔

اگر نیپرا نے اس اضافے کی منظوری دے دی تو اپریل کے بجلی کے بلوں میں صارفین کو 14 ارب روپے سے زائد کی اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی، جس سے پہلے سے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

+ posts

علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں