ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

حکومت کا بجلی کی خریداری اور ڈسکوز کی نجکاری سے متعلق بڑا اعلان

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (14 مئی 2026): وفاقی حکومت نے بجلی کی خریداری اور ڈسکوز کی نجکاری سے متعلق بڑا اعلان کر دیا۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے جرمن سفیر انّا لیپل نے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے توانائی اصلاحات اور پاک-جرمن تعاون پر تفصیلی گفتگو کی۔

ملاقات میں اویس لغاری نے جرمن سفیر کو بتایا کہ پاکستان میں 55 فیصد توانائی صاف ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے تاہم ہدف توانائی میں صاف ذرائع کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی اتنی سستی کریں گے لوگ دن میں بیٹریاں چارج کر کے رات کو استعمال کریں گے، وزیر توانائی

اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان مقامی و قدرتی ذرائع سے خاطر خواہ بجلی پیدا کر رہا ہے، 800 میگا واٹ قابلِ تجدید توانائی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔

وفاقی وزیر توانائی نے اعلان کیا کہ حکومت اب مزید بجلی نہیں خریدے گی۔

ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں حکومت وسطی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے

’گزشتہ سال پاکستان توانائی میں 70 فیصد خود کفالت کے قریب رہا۔ ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں حکومت وسطی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، پہلے مرحلے میں 11 میں سے 3 ڈسکوز کی نجکاری کر رہے ہیں، آئندہ سال نجکاری کے عمل میں مزید ڈسکوز شامل کی جائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جدید توانائی نظام کیلیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم ناگزیر ہے، لیسکو کیلیے جرمن تعاون سے بیٹری اسٹوریج سسٹم منصوبہ زیر غور ہے، ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کیلیے سرمایہ کاری درکار ہے، پاکستان بزنس کونسل سمیت نجی شعبے کو سرمایہ کاری میں شامل کر رہے ہیں۔

ملاقات میں جرمن مالیاتی اداروں کیلیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر زور دیا گیا۔ اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان-جرمنی انرجی کوآپریشن فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

جرمن سفیر نے بتایا کہ پاکستان-جرمنی کلائمیٹ فریم ورک پہلے سے موجود ہے۔

دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔ جرمن سفیر نے 300 ملین یورو کے توانائی منصوبے اور جاری تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2027 کے نئے منصوبوں کی تیاری جاری ہے۔

ملاقات میں تکنیکی سطح پر روابط بڑھانے اور جلد دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں