The news is by your side.

Advertisement

لاہور : کچرے سے 40 میگاواٹ روزانہ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار

لاہور : کچرے سے 40 میگاواٹ روزانہ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا، یومیہ چھ ہزار ٹن کوڑا سائٹ تک پہنچانے کا خرچ اور کمپنیز کی عدم دلچسپی التوا کا باعث ہے۔

تفصیلات کے باعث پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کچرے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی تاخیر کا شکار ہوگیا، نجی پاور کمپنیز کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث کچرے سے40 میگاواٹ روزانہ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ مسلسل التوا کا شکار ہے۔

لکھو ڈیر میں فلتھ ڈپو میں کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا، ایک سال پہلے نجی کمپنیز کو لائسنس جاری ہوئے، نیپرا نے ٹیرف بھی طے کردیا تھا۔

نجی پاور کمپنیوں کے غیر سنجیدہ رویے سے صوبائی وزیر توانائی بھی نالاں نظر آتے ہیں، اس حوالے سے صوبائی وزیر توانائی ملک اختر کا کہنا ہے کہ منصوبے پر کام نجی کمپنیز کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلتھ ڈپو سے کچرا پاور پلانٹ تک لانے کے خرچ کا معاملہ حل طلب ہے، کیوں کہ ہم سابقہ حکومت کی طرح ڈالرز میں ادائیگی کرکے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

دوسری جانب ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اجمل بھٹی نے کہا ہے کہ فلتھ ڈپو کے قریب 25ایکڑ زمین کچرے کیلئے مختص کرچکے ہیں، مختٖص کی گئی زمین پرروزانہ چھ ہزار ٹن کوڑا اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔

منصوبے کی تاخیر سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ ہزار ٹن کوڑا سائٹ تک پہنچانے کے اخراجات کا معاملہ اور کمپنیز کی عدم دلچسپی التوا کا باعث ہے۔

پاکستان میں پہلی بار کچرے سے بجلی بنانے کا منصوبہ، غیر ملکی کمپنی کو لائسنس جاری

واضح رہے کہ گزشتہ سال نیشنل الیکٹرک اینڈپاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے کچرے سے توانائی بنانے کے لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اسی سلسلے میں پہلا لائسنس ایک چینی کمپنی کو جاری کیا گیا۔

معاہدے کے مطابق ابتدائی طور پر یہ غیرملکی کمپنی’لاکھودیر‘کے مقام پر چالیس میگا واٹ انرجی پیدا کرے گی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ کچرے سے توانائی بنانے کے لیے سب سے بہترین ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جائے گی ، تاہم تاحال یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں