کوئٹہ: سول اسپتال میں پوسٹ گریجویٹ خاتون ڈاکٹر پر مبینہ لفٹ آپٹریٹر نے تیزاب پھینک دیا، واقعے کی ویڈیو سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی سول اسپتال کے شعبہ جنرل سرجری کے وارڈ میں ایک انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں ایک پوسٹ گریجویٹ خاتون ڈاکٹر پر مبینہ طور پر اسپتال کے ہی ایک لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا۔
تیزاب حملے کے باعث خاتون ڈاکٹر شدید متاثر ہوئیں، جنہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے ایک نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔
ترجمان ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسپتال کے اندر ڈاکٹرز ہی محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو دوٹوک الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر اگلے 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ صوبے بھر میں تمام طبی خدمات (سروسز) کا مکمل بائیکاٹ کر دیں گے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ سول لائنز کی پولیس تفتیش کے لیے موقع پر پہنچ گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے سول ہسپتال کا ہنگامی دورہ کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ خاتون ڈاکٹر پر حملہ پوری ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور تمام ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو فوری کارروائی کی سخت ہدایات جاری کردی ہے۔
ڈی آئی جی نے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ہسپتالوں کی سیکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے اور ملوث کرداروں کو ہر صورت قانون کے شکنجے میں لا کر خاتون ڈاکٹر کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔


