میانمار کے مہاجرین کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی، جس میں کم از کم 11 مہاجرین ہلاک ہو گئے، کشتی میں 300 افراد سوار تھے۔
تفصیلات کے مطابق ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سمندری سرحد کے قریب میانمار کے مہاجرین کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی، جس میں کم از کم 11 مہاجرین ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 13 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور سیکڑوں اب بھی لاپتہ ہیں۔
ملائیشیا کے بحری حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی شکار کشتی میں300افرادسوارتھے ، جن میں زیادہ تر روہنگیا مسلمان شامل تھے، یہ لوگ دو ہفتے قبل میانمار کے محروم ریاست رکھائن سے روانہ ہوئے تھے۔
بڑی کشتی میانمار کے علاقے بوتھی ڈانگ سے ملائیشیا کے لیے روانہ ہوئی اور سرحد کے قریب پہنچ کر اسمگلروں نے مسافروں کو تین چھوٹی کشتیوں میں منتقل کیا تاکہ حکام کی نظروں سے بچا جا سکے تاہم دو دیگر کشتیوں کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ملائیشیا کے ساحلی محافظوں کا کہنا ہے کہ یہ کشتی لانگ کاوی کے قریب ڈوبی، ریسکیو آپریشن دوسرے دن میں داخل ہو چکا ہے اور تلاش کے علاقے کو 170 سے بڑھا کر 256 سمندری میل کر دیا گیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ تلاش سات دن تک جاری رہ سکتی ہے۔
بحری حادثے میں پانی سے نکالی گئی لاشیں ایک روہنگیا خاتون کی تھیں، بچائے گئے 13 افراد میں 11 روہنگیا اور 2 بنگلہ دیشی ہیں۔
روہنگیا میانمار کی اکثریتی بدھ مت ملک میں اقلیتی مسلمان ہیں اور انہیں شہری حقوق حاصل نہیں، اگست 2017 میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد لاکھوں روہنگیا بنگلہ دیش فرار ہو گئے۔
تاہم بنگلہ دیش میں بھی مشکلات نے بعض روہنگیا کو خطرناک سمندری سفر کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ ملائیشیا پہنچ سکیں، جو ایک محفوظ ملک تصور کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق ہر مسافر نے اس سمندری سفر کے لیے 3,000 امریکی ڈالر یا اس سے زیادہ ادا کیے تھے۔ یہ چھوٹی اور تنگ کشتیوں میں پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہوتیں، اور اکثر یہ سفر مکمل نہیں ہو پاتے، کچھ سمندر میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور کچھ کو پکڑ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔


