The news is by your side.

سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے والی ارب پتی خاتون کو 11 سال قید

کیلیفورنیا : امریکی عدالت نے سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا جرم ثابت ہونے پر کم عمر ارب پتی خاتون کو 11 سال تین ماہ قید کی سزا سنا دی۔

کیلیفورنیا کی عدالت نے38 سالہ الزبتھ ہومز کو مختلف سرمایہ کاروں کے ساتھ فراڈ کے تین الزامات اور ایک سازش کے الزام میں سزا سنائی۔ استغاثہ نے عدالت سے 15 سال قید کی سزا کی استدعا کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ڈراپ آؤٹ ہونے والی مجرمہ ہومز نے تھیرانوس نامی ایک کمپنی قائم کی تھی جس کی مالیت ایک وقت میں نو ارب ڈالر تھی۔

اس کا دعویٰ تھا کہ اس کی کمپنی کی ایجاد کردہ جدید ٹیکنالوجی مریض کے خون کے چند قطروں کی مدد سے کینسر اور ذیابیطس جیسی  بیماریوں کا فوری پتہ لگا سکتی ہے۔

اڑتیس سالہ الزبتھ ہومز پر تین ماہ کے مقدمے کے بعد رواں سال جنوری میں فراڈ کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا، فیصلہ سننے کے بعد ہومز نے عدالت کو روتے ہوئے بتایا کہ وہ ان تمام لوگوں سے شرمندہ ہے جو اُس کی دھوکہ دہی کی وجہ سے متاثر ہوئے۔

عدالت سے سزا سننے کے بعد ہومز نے اپنے والدین اور اپنے ساتھی کو روتے ہوئے گلے لگایا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر اسے موقع ملتا تو اس حوالے سے بہت سے معاملات کو بہتر طریقے سے انجام دے کر حالات اس نہج تک نہ پہنچنے دیتی۔

استغاثہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ ہومز نے تھیرانوس کی ٹیکنالوجی کو سرمایہ کاروں کے سامنے غلط طریقے سے پیش کیا اور مریضوں کے ٹیسٹ خفیہ طور پر کرنے کے لیے دوسری کمپنیوں کی روایتی مشینوں پر انحصار کیا۔

الزبتھ ہومز کو مذکورہ مقدمے میں مجموعی طور پر 11 الزامات کا سامنا تھا اور وہ عوام کو دھوکہ دینے سے متعلق چار الزامات میں قصور وار قرار نہیں پائی گئی۔

اپنے دفاع میں گواہی دیتے ہوئے مجرمہ الزبتھ ہومز کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے بیانات اور میرا فعل اس وقت کی مناسبت سے درست اور نیک نیتی پر مبنی تھے۔

امید کی جا رہی ہے کہ الزبتھ ہومز جسے کسی زمانے میں ’مستقبل کا اسٹیو جابز‘ بھی کہا جاتا تھا، اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔

واضح رہے کہ19 سال کی عمر میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ڈراپ آؤٹ ہونے والی ہومز نے ایک کمپنی قائم کی جس کی مالیت ان کے دعوے کے بعد راتوں رات بڑھ گئی اور ان کی کمپنی میں ہینری کسنجر سے لے کر روپرٹ مرڈوک جیسے بڑے لوگوں نے سرمایہ کاری کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں