بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

ایلون مسک کا کورونا ویکسین سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ

اشتہار

حیرت انگیز

نیویارک(13 اپریل 2026): ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت ایلون مسک نے کووڈ-19 ویکسین کی حفاظت سے متعلق بحث کو ایک بار پھر چھیڑ دیا ہے۔

ایلون مسک نے ایک سابق فارماسیوٹیکل ماہر کے وائرل دعوؤں کی حمایت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ”مر رہے ہوں“۔

ایلون مسک نے جرمنی کے ایک سابق ماہرِ ٹاکسیکولوجسٹ ڈاکٹر ہیلمٹ سٹرز کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم آر این اے ویکسینز کو منظور نہیں کیا جانا چاہیے تھا انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس ویکسین کے استعمال سے ہزاروں اموات واقع ہوئی ہوں گی۔

ماضی میں فائزر اور روش جیسی بڑی کمپنیوں کے یورپی مراکز کے سربراہ نے ڈاکٹر سٹرز کو جرمن پارلیمانی کمیشن کے سامنے گواہی کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

19 مارچ 2026 کو دی گئی اپنی گواہی میں ڈاکٹر سٹرز نے الزام لگایا کہ فائزر-بائیو این ٹیک ویکسین کی منظوری سے قبل ضروری حفاظتی ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے۔

انہوں نے جرمنی کے ویکسین سیفٹی ادارے کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ویکسین کے بعد رپورٹ ہونے والی اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

جرمن حکام اور ماہرین کا ردعمل

دوسری جانب جرمن وزیرِ صحت کارل لاؤٹرباخ نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔ عالمی طبی اداروں اور ریگولیٹری ایجنسیوں کا مؤقف ہے کہ کووڈ ویکسینز کو ہنگامی یا مکمل منظوری دینے سے قبل دسیوں ہزار افراد پر مشتمل وسیع کلینیکل ٹرائلز سے گزارا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد ہونے والی اموات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ویکسین کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ایسی تمام رپورٹس کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ تعلق کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے۔

تاہم ایلون مسک کی جانب سے اس ویڈیو کو شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایلون مسک نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسین آنے سے پہلے وہ اصل کورونا کا شکار ہوئے تھے، جو کہ کسی بھی عام نزلہ زکام یا فلو جیسا ہی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بیماری بری تو تھی لیکن اتنی بھی خوفناک نہیں تھی۔

تاہم ویکسین کے حوالے سے اپنا تلخ تجربہ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کی دوسری خوراک نے انہیں تقریباً اسپتال پہنچا دیا تھا۔ مسک کے بقول ”دوسری خوراک کے بعد مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں مر رہا ہوں“۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں