نیویارک(13 اپریل 2026): ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف شخصیت ایلون مسک نے کووڈ-19 ویکسین کی حفاظت سے متعلق بحث کو ایک بار پھر چھیڑ دیا ہے۔
ایلون مسک نے ایک سابق فارماسیوٹیکل ماہر کے وائرل دعوؤں کی حمایت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ”مر رہے ہوں“۔
ایلون مسک نے جرمنی کے ایک سابق ماہرِ ٹاکسیکولوجسٹ ڈاکٹر ہیلمٹ سٹرز کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم آر این اے ویکسینز کو منظور نہیں کیا جانا چاہیے تھا انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس ویکسین کے استعمال سے ہزاروں اموات واقع ہوئی ہوں گی۔
The vaccine dosage was obviously too high and done too many times.
I had the original Wuhan virus before there was any vaccine and it was much like any other cold/flu. Bad, but not terrible.
But my second vaccine shot almost sent me to the hospital. Felt like I was dying. https://t.co/rFuUpzBkKH
— Elon Musk (@elonmusk) April 12, 2026
ماضی میں فائزر اور روش جیسی بڑی کمپنیوں کے یورپی مراکز کے سربراہ نے ڈاکٹر سٹرز کو جرمن پارلیمانی کمیشن کے سامنے گواہی کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
19 مارچ 2026 کو دی گئی اپنی گواہی میں ڈاکٹر سٹرز نے الزام لگایا کہ فائزر-بائیو این ٹیک ویکسین کی منظوری سے قبل ضروری حفاظتی ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے۔
انہوں نے جرمنی کے ویکسین سیفٹی ادارے کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ویکسین کے بعد رپورٹ ہونے والی اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
جرمن حکام اور ماہرین کا ردعمل
دوسری جانب جرمن وزیرِ صحت کارل لاؤٹرباخ نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔ عالمی طبی اداروں اور ریگولیٹری ایجنسیوں کا مؤقف ہے کہ کووڈ ویکسینز کو ہنگامی یا مکمل منظوری دینے سے قبل دسیوں ہزار افراد پر مشتمل وسیع کلینیکل ٹرائلز سے گزارا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد ہونے والی اموات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ویکسین کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ایسی تمام رپورٹس کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ تعلق کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جا سکے۔
تاہم ایلون مسک کی جانب سے اس ویڈیو کو شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ویکسین کے اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایلون مسک نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ویکسین آنے سے پہلے وہ اصل کورونا کا شکار ہوئے تھے، جو کہ کسی بھی عام نزلہ زکام یا فلو جیسا ہی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بیماری بری تو تھی لیکن اتنی بھی خوفناک نہیں تھی۔
تاہم ویکسین کے حوالے سے اپنا تلخ تجربہ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کی دوسری خوراک نے انہیں تقریباً اسپتال پہنچا دیا تھا۔ مسک کے بقول ”دوسری خوراک کے بعد مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں مر رہا ہوں“۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


