بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

سیلابی صورتحال میں بند توڑنے کا فیصلہ کیسے کیا جاتا ہے؟ فیڈرل فلڈ کمیشن کی بریفنگ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (17 ستمبر 2025): سیلابی صورتحال میں بند توڑنے کا معاملہ انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن اس کا فیصلہ کس طرح کیا جاتا ہے، اس حوالے سے فیڈرل فلڈ کمیشن نے بریفنگ دی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین احمد عتیق انور کی زیرِ صدارت ہوا جس میں چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن نے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پانی کا اسٹوریج 98 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آبی گزرگاہوں میں تعمیرات کی وجہ سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوا ہے جس میں پلوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کمیٹی بند توڑنے کا فیصلہ کرتی ہے، کمیٹی میں متعلقہ محکموں کے ممبران شامل ہوتے ہیں۔

اجلاس میں حکام وزارت آبی وسائل نے بتایا کہ بیراجز کے اوپر بند توڑنے کے مقامات پہلے سے متعین ہیں، کنٹرولڈ اور ان کنٹرولڈ بریچنگ کے سوا زمین کی نوعیت بھی اہم ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہمیں زمین کی نوعیت ساکھ کا ایک تجزیہ کرنا چاہیے، ہمارے پاس اپنی زمین کی نوعیت کی معلومات تو ہونی چاہیے۔

قبل ازیں، اجلاس میں حکام آبی وسائل نے بتایا کہ موجودہ سیلاب میں پانی زیادہ آیا اور بہاؤ کم ہے، قادر آباد سے تریموں تک پانی 86 گھنٹے میں پہنچتا تھا جو 121 گھنٹے میں پہنچا۔

قائمہ کمیٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ محکمہ موسمیات کو بارشوں سے ایک دن پہلے کچھ پتا نہیں تھا، ہم تو مطمئن تھے کہ اداروں نے بتایا ہے کچھ مسئلہ نہیں ہے۔

کمیٹی رکن منور تالپور نے اعتراف کیا کہ ملک بھر میں آبی گزرگاہوں میں تجاوزات کی بھرمار ہے، موسمیاتی تبدیلی الگ مسئلہ ہے مگر ہم نے دریاؤں میں گھر بنا لیے۔

ڈی جی محکمہ موسمیات کی بریفنگ

اجلاس میں ڈی جی محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 29 مئی کو زیادہ بارشوں سے متعلق بتا دیا تھا لیکن اس دفعہ محکمہ موسمیات کی بات سنی ہی نہیں گئی۔

فیڈرل فلڈ کمشنر نے اجلاس میں بتایا کہ 22 جولائی کو کراچی میں ایک گھنٹے 160 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ اسلام آباد میں 22 جولائی کو 184 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس پر شازیہ مری نے سوال کیا کہ کیا ماضی میں بھی اسلام آباد میں اتنی بارش ہوئی جتنی اس بار ہوئی؟ ڈی جی محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جولائی 2001 میں 600 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی تھی۔

ڈی جی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے دن سے کہا تھا سندھ کو سپر فلڈ ہٹ نہیں کرے گا، اپریل کے آخر میں ہماری 10 ممالک کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں 10 ممالک نے اپنی اپنی فورکاسٹنگ بتائی تھی، اس میٹنگ کے بعد ہم نے مئی 29 کو متعلقہ اداروں کے ساتھ میٹنگ کی۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے سب اداروں کو بتا دیا تھا تیز بارشیں آئیں گی، یہ بھی بتایا تھا کہ ملک میں سیلاب میں آئیں گے، ہمارے ملک بھر میں 120 سینٹرز ہیں ہر گھنٹے میں ڈیٹا آتا ہے، ہماری اتنی محنت کے باوجود ہمارا نام نہیں لیا جاتا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں