The news is by your side.

Advertisement

اماراتی شہزادے نے قطر میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی

شہزادہ راشد بن حمد الشرقی کو ابوظہبی کے حاکم سے اختلافات ہیں جس کے باعث انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے

ابوظہبی/ دوحہ : اماراتی ریاست فجیرہ کے شہزادے راشد بن احمد نے ابوظہبی کے حاکم شیخ زید بن النہیان سے اختلافات کے باعث جان کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے قطر پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست کردی۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے امیر شیخ حمد بن محمد الشرقی کے 31 سالہ بیٹے راشد بن حمد الشرقی نے جان کے خطرے کے باعث قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست کر دی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حمد بن الشرقی 16 مئی کو متحدہ عرب امارات سے دوحہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امارات میں ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے جس کے باعث ریاست چھوڑنے پر مجبور ہوا ہوں‘۔

حمد بن الشرقی کا کہنا تھا کہ مجھے یمن میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت سمیت بعض معاملات پر ابوظہبی کے حاکم شیخ زید بن سلطان النہیان سے شدید اختلافات ہیں اور میں یمن جنگ کے معاملے پر اماراتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے، اس لیے میری جان کو خطرہ ہے۔

اماراتی شہزادے راشد بن حمد الشرقی کا کہنا ہے کہ یمن جنگ میں مرنے والے اماراتی فوجیوں کی تعداد 100 بتائی گئی ہے جبکہ حقیقت بلکل متضاد ہے، یمن جنگ میں لقمہ اجل بننے والے اماراتی فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جن میں اکثریت کا تعلق ریاست فجیرہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے اماراتی شہزادے کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مذکورہ بیان متحدہ عرب امارات کے حاکم وقت کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے‘۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’بزدل لوگ صرف بیان بازی کرسکتے ہیں لیکن سامنے آکر گفتگو کرنے کا حوصلہ ان میں نہیں ہوتا‘۔

خیال رہے کہ گذشتہ ایک برس سے متحدہ عرب امارات اور قطر کے درمیان سفارتی تعلقات تنازعات کا شکار ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں