The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کی ماحول دشمن پالیسیوں پر فرانسیسی صدر کی تنقید

واشنگٹن: فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اپنے دورہ امریکا کے دوران کانگریس میں صدر ٹرمپ کی ماحول دشمن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر ارکان کانگریس خوشی سے نہال ہوگئے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گزشتہ ہفتے امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امریکی کانگریس سے بھی خطاب کیا۔

کانگریس میں اپنے خطاب کے دوران فرانسیسی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کی کئی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جس پر کانگریس کے ارکان بہت خوش ہوئے اور ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے ان کے لیے بے تحاشہ تالیاں بجائیں۔

صدر میکرون نے صدر ٹرمپ کی ماحول دشمن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح جہالت سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس تعلیم ہے، اسی طرح ہماری زمین کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس سائنس ہے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی امریکا میں جاری کئی سائنسی تحقیقات کا بجٹ کم کردیا تھا اور اس کے بدلے نئی صنعتیں لگانے اور روزگار دینے پر زور دیا تھا۔

امریکی صدر کی اس پالیسی کے بعد فرانسیسی صدر نے امریکی سائنس دانوں کو فرانس آنے اور سائنسی منصوبوں پر کام کرنے کی دعوت دی تھی۔

امریکی کانگریس میں میکرون نے مزید کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہنگامی طور پر صنعتوں کا قیام اور ملازمتیں دینا زیادہ ضروری ہے، بہ نسبت اس کے کہ قومی معیشت کو زمین کو لاحق سب سے بڑے خطرے یعنی کلائمٹ چینج کے مطابق کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس ضرورت کو سمجھتا ہوں لیکن ہمیں اپنی معیشت کو ایسا بنانا ہوگا جس سے یہ کاربن کا اخراج کم سے کم کرے اور ماحول دوست ہو۔

یہاں ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کے نئی صنعتیں لگانے کی طرف ہے جس میں کوئلے کی تلاش کے لیے ڈرلنگ بھی شامل ہے۔ گو کہ یہ کام نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تو بہترین ہے تاہم اس کی قیمت ماحول کی خرابی ہوگی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ماحول کے لیے دشمن صدر؟

کوئلے کا استعمال خاص طور پر ماحول کے لیے زہر قاتل ہے جو کاربن خارج کر کے فضا میں موجود زہریلی گیسوں میں اضافہ کرے گا، مقامی سطح پر آلودگی میں اضافہ کرے گا جبکہ مجموعی طور پر گلوبل وارمنگ میں بھی اضافہ کرے گا۔

صدر میکرون نے کہا کہ سمندروں کو آلودہ کرنے سے، کاربن کی مقدار کم نہ کرنے سے اور نظام میں موجود حیاتیاتی تنوع کو تباہ کرنے سے ہم اپنی زمین کا قتل کر رہے ہیں۔ ’ اس بات کو سجھیں کہ ہمارے پاس رہنے کے لیے کوئی دوسرا سیارہ موجود نہیں‘۔

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ امریکا ایک دن کاربن میں کمی کے پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے گا۔

سنہ 2016 میں 195 ممالک کی جانب سے دستخظ کیے جانے والے پیرس معاہدے میں کاربن کے اخراج میں کمی کا عہد کیا گیا تھا۔

معاہدے کے وقت سابق صدر اوباما کی ہدایت پر امریکا بھی اس معاہدے کا اہم حصہ تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکی معیشت پر بوجھ قرار دیتے ہوئے جون 2017 میں اس سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔

فرانسیسی صدر میکرون نے امریکا کی پناہ گزینوں کے خلاف پالیسی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہم نیشنل ازم کا راستہ اپناتے ہوئے باقی دنیا کے لیے اپنے ملک کے دروازے بند کرسکتے ہیں، اس سے عارضی طور پر ہمارے شہریوں کے خوف دور ہوسکتے ہیں۔ ’لیکن ہمیں ان خطرات کا سامنا کرنا ہوگا جو بالکل ہمارے سامنے کھڑے ہیں‘۔

انہوں نے کہا، ’خطرات کا سامنا کرنے سے ہم مضبوط بنیں گے، خطرات کا سامنا ہی ہمیں خطرات سے نمٹنے کے قابل بنائے گا۔ نیشنل ازم کا نعرہ لگا کر علیحدگی اختیار کرلینا کسی بھی طریقے سے درست نہیں‘۔

صدر میکرون کی اس تقریر پر کانگریس کا فلور تالیوں اور خوشی بھری آوازوں سے گونج اٹھا۔ ارکان کانگریس نے صدر میکرون کو کھڑے ہو کر تعظیم بھی دی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں