لاہور کی تاریخ خاندانی دشمنیوں سے بھری پڑی ہے لیکن زندہ دلوں کے اس شہر میں دو خاندانوں کی دلی کدورت اور رنجش کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ وہ دہائیوں پر محیط اور کسی فلمی داستان کی طرح لگتی ہے۔
بلاں ٹرکاں والے اور طیفی بٹ کے خاندانوں کے درمیان شروع ہونے والی اس دشمنی میں 10 اکتوبر 2025 کو ایک ایسا موڑ آیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی شاید خود خواجہ تعریف گلشن کو بھی نہیں، 70 سال کے قریب ضعیف العمری میں اںھیں جس چیز کا سامنا کرنا پڑا اسے اچھے اچھے باخبر صحافیوں کےلیے بھی ہضم کرنا مشکل ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امیربالاج کے مقدمہ قتل میں طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کرکے کراچی لایا جاتا ہے اور 11 اکتوبر کی دوپہر خبرآتی ہے کہ طیفی بٹ کراچی سے لاہور لے جاتے ہوئے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔
کرائم واچ کی رپورٹ کے مطابق "سی سی ڈی نے جو پولیس مقابلہ کیا اور انکاؤنٹر میں طیفی بٹ کو مارا ایسا ہی ہے کہ آپ سمجھ لیں پنجاب کا اکبر بگٹی پولیس مقابلے میں مارا گیا کیوں کہ جتنا بڑا وہ بندہ تھا، جتنا اس کا نام تھا جتنا اس کا خوف تھا وہ اس حوالے سے پنجاب کا اکبر بگٹی ہی تھا!”
کیا ایسا ہی تھا؟ اس سے آگے کی داستان آپ زعیم باصر کی آڈیو پوڈ کاسٹ میں سن سکتے ہیں۔۔۔


