منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

یہ قصہ ہے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انکاؤنٹر کا جس کی کسی کو امید نہ تھی

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور کی تاریخ خاندانی دشمنیوں سے بھری پڑی ہے لیکن زندہ دلوں کے اس شہر میں دو خاندانوں کی دلی کدورت اور رنجش کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ وہ دہائیوں پر محیط اور کسی فلمی داستان کی طرح لگتی ہے۔

بلاں ٹرکاں والے اور طیفی بٹ کے خاندانوں کے درمیان شروع ہونے والی اس دشمنی میں 10 اکتوبر 2025 کو ایک ایسا موڑ آیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی شاید خود خواجہ تعریف گلشن کو بھی نہیں، 70 سال کے قریب ضعیف العمری میں اںھیں جس چیز کا سامنا کرنا پڑا اسے اچھے اچھے باخبر صحافیوں کےلیے بھی ہضم کرنا مشکل ہوگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امیربالاج کے مقدمہ قتل میں طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کرکے کراچی لایا جاتا ہے اور 11 اکتوبر کی دوپہر خبرآتی ہے کہ طیفی بٹ کراچی سے لاہور لے جاتے ہوئے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

کرائم واچ کی رپورٹ کے مطابق "سی سی ڈی نے جو پولیس مقابلہ کیا اور انکاؤنٹر میں طیفی بٹ کو مارا ایسا ہی ہے کہ آپ سمجھ لیں پنجاب کا اکبر بگٹی پولیس مقابلے میں مارا گیا کیوں کہ جتنا بڑا وہ بندہ تھا، جتنا اس کا نام تھا جتنا اس کا خوف تھا وہ اس حوالے سے پنجاب کا اکبر بگٹی ہی تھا!”

کیا ایسا ہی تھا؟ اس سے آگے کی داستان آپ زعیم باصر کی آڈیو پوڈ کاسٹ‌ میں سن سکتے ہیں۔۔۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں