پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ انسدادِ پولیو مہم چلانے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ انسدادِ پولیو مہم چلانے کا فیصلہ

اسلام آباد: دنیا سے پولیو وائرس کے خاتمے کی عالمی جنگ بھرپور طور پر جاری ہے، اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ انسدادِ پولیو مہم چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے انوکھا قدم اٹھایا، افغانستان کے ساتھ مل کر مہم چلائی جائے گی، دونوں ممالک نے پولیو وائرس کے خاتمے کو ہدف بنا لیا۔

ذرائع کے مطابق مشترکہ مہم کے لیے پاکستان نے افغانستان سے درخواست کی تھی، افغانستان کی جانب سے مثبت جواب کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم 24 ستمبر سے شروع کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم 2 مراحل میں چلائی جائے گی، انسدادِ پولیو مہم 24 سے 29 ستمبر تک پاکستان بھر میں جاری رہے گی۔

ذرائع کے مطابق قومی انسدادِ پولیو مہم میں 38.6 ملین (تین کروڑ چھیاسی لاکھ) بچوں کو ویکسین دی جائے گی، مہم میں بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ وٹامن اے ویکسین 6 ماہ تا 5 سال کے بچوں کو دی جائے گی، قومی انسدادِ پولیو مہم میں 2 لاکھ 60 ہزار اہل کار خدمات انجام دیں گے۔


یہ بھی ملاحظہ کریں:  سال 2018: سندھ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا


واضح رہے کہ پولیو مائلائٹس (پولیو) ایک وبائی (تیزی سے پھیلنے والا) مرض ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے، اور ٹانگوں اور جسم کے دوسرے اعضا کے پٹھوں میں کم زوری کی وجہ بن سکتا ہے، چند صورتوں میں محض چند گھنٹوں میں موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ساتھ ہی روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے محفوظ اور مؤثر ویکسین موجود ہے جو منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو  قطروں کی صورت میں ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو ویکیسن بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لیے ضروری ہے۔ کئی مرتبہ پلانے سے یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں