منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

پابندیوں کاخاتمہ ایٹمی معاہدے کا لازمی حصہ ہے، ایران

اشتہار

حیرت انگیز

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پابندیوں کاخاتمہ ایٹمی معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

جنیوا میں امریکا سے مذاکرات پر انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے کئی ہفتے تک قیام کےلیے تیار ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ ایٹمی معاہدے کا لازمی حصہ ہے ہم کھلے دل اور ذہن کے ساتھ مذاکرات کے لیے جنیوا آئے ہیں، ایران مذاکرات میں مکمل سنجیدہ ہے اور ٹھوس نتائج کا خواہاں ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مل کر ایران سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں ہٹانے کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہو تو وہ جوہری معاہدے کے لیے سمجھوتے کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

یہ بیان ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے تہران میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا، ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا "انتہائی مشکل” ہے۔

تاہم تخت روانچی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی معاہدہ چاہتا ہے، اگر وہ مخلص ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی طرح 400 کلوگرام سے زیادہ انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر بھیجنے پر آمادہ ہوگا، تو تخت روانچی نے جواب دیا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کے دوران کیا پیش رفت ہوگی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں