The news is by your side.

Advertisement

بجلی محفوظ کرنے والی جدید اینٹیں

واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے بجلی محفوظ کرنے والی ’’ذہین اینٹیں‘‘ ایجاد کرلی ہیں اور ایسی ہی ایک اینٹ کی مدد سے دس منٹ تک ایل ای ڈی جلا کر اپنی کامیابی کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔

آن لائن ریسرچ “جرنل نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع رپورٹ کے مطابق سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی میں شعبہ کیمیا کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جولیو ڈی آر کی اور ان کی ٹیم نے بھٹے میں پکی ہوئی سرخ اینٹوں پر ایک خاص نامیاتی پولیمر کے بخارات جمع کیے، جس کے بعد وہ توانائی ذخیرہ کرنے والے ایک آلے ’’سپر کپیسٹر‘‘ میں تبدیل ہوگئیں۔

اپنے تحقیقی مقالے میں اس کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ پہلے مرحلے میں سرخ اینٹوں کو 160 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا گیا اور پھر اسی درجہ حرارت پر انہیں پیڈوٹ کے بخارات میں رکھ دیا گیا۔Regular bricks can be transformed into energy storage devices, scientists  say | CTV Newsیہ نامیاتی مرکب آہستہ آہستہ ان سرخ اینٹوں کے باریک مساموں میں جمع ہوتا گیا 160 ڈگری سینٹی گریڈ پر اینٹوں میں موجود آئرن آکسائیڈ کی وجہ سے پیڈوٹ کی لمبی لمبی سالماتی زنجیریں یعنی پولیمرز بننے لگیں۔ اس طرح تھوڑی دیر بعد اینٹوں کی سطح ایک ایسے مادّے میں تبدیل ہوگئی جس میں سے نہ صرف بجلی گزر سکتی تھی بلکہ ذخیرہ بھی کی جاسکتی تھی۔

ذہین اینٹیں ایجاد کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسی ہر اینٹ دس ہزار مرتبہ چارج اور ڈسچارج ہونے کے بعد بھی بجلی ذخیرہ کرنے کے قابل رہتی ہے۔

واضح رہے کہ فی الحال یہ تحقیق ابتدائی تجرباتی مرحلے پر ہے جس میں بنیادی اصول کو عملی طور پر ثابت کیا گیا ہے، تاہم ڈاکٹر جولیو اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ بڑے پیمانے پر بھی استعمال کیا جاسکے گا جبکہ توانائی ذخیرہ کرنے والی ’’ذہین اینٹیں‘‘ تیار کرنے میں بہت کم اضافی اخراجات ہوں گے۔

انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ ذہین اینٹوں سے بنی عمارتوں کی دیواروں میں کتنی بجلی محفوظ ہوسکے گی لیکن ان کا دعوی ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی پختہ ہوکر عام استعمال میں آگئی تو ذہین اینٹوں کی بدولت ہر گھر ’’اچھی خاصی‘‘ بجلی اپنی دیواروں میں ذخیرہ کرسکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں