برطانیہ کے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی England's schools face 'severe' teacher shortage
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی

لندن : برطانوی تھنک ٹینک ایجوکیشن پالیسی انسٹیٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ برطانیہ کے اسکولوں کو اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھنک ٹینک ایجوکیشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد برطانیہ کے اسکولوں میں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے، تاہم اب تک اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کے مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکا۔

برطانوی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے سے ٹیچرز کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے سیکریٹری ایجوکیشن ڈیمن ہنڈز کا کہنا ہے کہ تعلیمی عملے کی بھرتی ہماری پہلی ترجیج ہے۔

تھنک ٹینک نے متنبہ کیا ہے کہ تعلیمی عملے کی کمی کے باعث استادوں کا تناسب کم ہوگیا ہے جس کے بعد 15 اعشاریہ 5 فیصد طالب علموں کے لیے صرف 1 ٹیچر رہ گیا ہے۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت لندن کے ارد گرد آؓباد علاقوں میں 17 فیصد فزکس ٹیچرز ایسے ہیں جو اپنے شعبے میں ڈگری رکھتے ہیں جبکہ ملکی کے دیگر علاقوں میں کل 52 فیصد فزکس ٹیچرز ہیں جو مذکورہ شعبے میں ڈگری کے حامل ہیں۔

تھنک ٹینک نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ جغفرائی طور پر ملک کے کچھ سرد علاقے ایسے ہیں جہاں اسکولوں میں ایسے ٹیچرز کی کمی ہے جو اپنے شعبے میں ڈگری کا حامل ہو۔


مزید پڑھیں : برطانوی والدین بچوں پر ایک گھنٹہ بھی صرف نہیں کرتے:سروے رپورٹ


یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں دنیا میں سالانہ عالمی ٹیچر ایوارڈ کا انعقاد کرنے والی تنظیم ’ورکی فاونڈیشن ‘ نے دنیا کے 29 ممالک کے 27،830 والدین کا سروے کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کی تعلیمی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں۔

سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ کے صرف گیارہ فیصد والدین ہی اپنے بچوں کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارتے ہیں‘ جو کہ انڈیا سے بھی 62 فیصد پیچھے ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کم وقت صرف کرنے کے باوجود برطانیہ کے 87 فیصد ماں باپ اپنے بچوں کے لیے اچھے استاد کو اہمیت دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی والدین ٹیکنالوجی اور سہولیات کے بجائے اساتذہ کو نوکری اور تنخواہ دینے میں زیادہ رقم لگاتے ہیں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں