بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

جنگ کا دوسرا محاذ: بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلی انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ماہرین اسے ”چھٹی معدومیت“ Sixth Extinction سے تعبیر کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگوں اور عسکری تنازعات کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ دونوں بحران الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جدید سائنسی تحقیق نے یہ حقیقت ثابت کر دی ہے کہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی دراصل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

امن نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ زمین کے لیے بھی ضروری ہے

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ”ماحول جنگ کا خاموش شکار ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔“ ان کا یہ بیان آج کی عالمی صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

جنگ اور کاربن اخراج: ایک نظر انداز کردہ حقیقت

یہ ایک افسوس نا ک حقیقت ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر کاربن اخراج کی بات ہو تو عسکری سرگرمیاں اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات پروفیسر سٹیورٹ پارکنسن کا کہنا ہے کہ ”دنیا کی افواج اجتماعی طور پر ایک بڑے ملک کے برابر کاربن خارج کرتی ہیں، مگر ان کے اخراج کو مکمل شفافیت کے ساتھ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔“

اسی طرح Conflict & Environment Observatory کے ماہر ڈگ ویئر کا کہنا ہے کہ”جنگی اخراج ایک Hidden Carbon Cost ہے، جسے موسمیاتی پالیسی سازی میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔“

تباہی کا کاربن: عمارتیں، شہر اور ملبہ

جنگی تباہی کا سب سے بڑا ماحولیاتی اثر انفراسٹرکچر کی تباہی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ماہر ڈاکٹر مارک سٹیفنز کے مطابق ”جب شہر تباہ ہوتے ہیں تو اصل کاربن اخراج جنگ کے بعد شروع ہوتا ہے، کیونکہ تعمیر نو کے لیے سیمنٹ اور اسٹیل کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین ”Reconstrution Carbon Spike “ کو جنگ کے سب سے خطرناک ماحولیاتی اثرات میں شمار کرتے ہیں۔

جنگی مشینری اور ایندھن کا استعمال

ناروے انٹرنیشنل افیئرز انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر بینجمن نیومن کے مطابق ”ایک لڑاکا طیارہ چند گھنٹوں میں اتنا ایندھن جلا دیتا ہے جتنا ایک عام شہری کئی مہینوں میں استعمال کرتا ہے۔“ یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جنگی مشینری کس قدر بڑے پیمانے پر کاربن اخراج کا باعث بنتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن خبردارکرتی ہے کہ جنگی علاقوں میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر جویتا گپتا کا کہنا ہے کہ ”جنگ کا دھواں اور زہریلی گیسیں نہ صرف درجۂ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ بارش کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔“

تیل کے ذخائر اور توانائی کا بحران

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق جنگوں کے دوران توانائی کے نظام میں خلل پیدا ہونے سے ممالک دوبارہ فوسل فیول کی طرف لوٹ آتے ہیں، جس سے عالمی اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ توانائی کے ماہر ڈاکٹر فاتح بیرول کے مطابق ”جیوپولیٹیکل تنازعات توانائی کی منتقلی (Energy Transition) کے عمل کو سست کر دیتے ہیں، جو موسمیاتی اہداف کے لیے نقصان دہ ہے۔“ یاد رہے کہ حالیہ جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حوالے سے جاپان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ ”توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئلے کا استمال شروع کرے گا“۔

عالمی موسمیاتی اہداف پر دباؤ

بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اگر عالمی اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو 1.5°C کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ IPCC سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر ہانس اوٹو پورٹنر کے مطابق ہم پہلے ہی موسمیاتی تباہی کے دہانے پر ہیں، اور جنگی اخراج اس خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔“ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنگی اخراج کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا غیر شفاف ہونا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ”فوجی اخراجات اور ان سے جڑے ماحولیاتی اثرات کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہی نہیں ہے، جس سے عالمی پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔“

ماحولیاتی نظام پر طویل مدتی اثرات

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق جنگیں زمین، پانی اور حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کہتی ہیں کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات اکثر دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں، اور ان کی بحالی ایک طویل اور مہنگا عمل ہوتا ہے۔“ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہیں، ان عالمی جنگی اخراجات کا بوجھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی، فضائی آلودگی اور دیگر کئی ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل میں ہونے والے اضافے کی صورت میں اٹھاتے ہیں۔

بارود سے بڑھتا درجۂ حرارت

جنگیں اب صرف زمینی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ اب یہ ایک ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کرۂ ارض کو موسمیاتی تباہی سے محفوظ رکھنا ہے تو عسکری اخراج کو موسمیاتی معاہدوں میں شامل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے شفاف رپورٹنگ کو بھی یقینی بنانا ہو گا، جنگ سے تباہ حال علاقوں میں ماحول دوست تعمیرات کرنا ہوں گی اور سب سے بڑھ کر تنازعات کا پُرامن حل نکالنا ہو گا۔

عالمی پالیسی سازوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ ہر دھماکہ، ہر جلتی ہوئی عمارت، اور ہر جنگی مشین فضا میں ایک ایسا زخم چھوڑ رہی ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔جیسا کہ بان کی مون نے کہا تھا کہ ”امن نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ زمین کے لیے بھی ضروری ہے۔“

+ posts

گزشتہ 20 برسوں سے محمود عالم خالد ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ ماحولیاتی جریدے فروزاں کے ایڈیٹر ہیں اور کئی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق ان کے مضامین اور کالم قومی سطح کے مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ شمالی علاقہ جات اور ڈیزرٹ ایریا میں فیلڈ ورک بھی کرتے ہیں جبکہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر کی نیشنل کلائمٹ چینج کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان کی انوائرمینٹ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔

اہم ترین

محمود عالم خالد
محمود عالم خالد
گزشتہ 20 برسوں سے محمود عالم خالد ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ ماحولیاتی جریدے فروزاں کے ایڈیٹر ہیں اور کئی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق ان کے مضامین اور کالم قومی سطح کے مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ شمالی علاقہ جات اور ڈیزرٹ ایریا میں فیلڈ ورک بھی کرتے ہیں جبکہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر کی نیشنل کلائمٹ چینج کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان کی انوائرمینٹ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔

مزید خبریں