ہفتہ, جون 6, 2026
اشتہار

امریکا نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت دے دی

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (26 مارچ 2026): امریکا نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت دے دی، آبنائے ہرمز سے ترسیل نہ رکنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ امریکیوں کو ریلیف دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کو مستحکم بنانے اور عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے ایک ہنگامی اقدام کے تحت E15 پٹرول کی ملک بھر میں فروخت کی اجازت دے دی ہے۔


ای پی اے کے ایڈمنسٹریٹر لی زیلڈن نے امریکی محکمہ توانائی سے مشاورت اور کلین ایئر ایکٹ کے تحت ایک عارضی ایمرجنسی فیول ویور (چھوٹ) جاری کیا، جس کے ذریعے 15 فی صد ایتھنول ملا ہوا پٹرول (E15) پورے ملک میں فروخت کیا جا سکے گا۔


اس اقدام کے ساتھ ساتھ 10 فی صد ایتھنول والے پٹرول (E10) کی فروخت میں حائل تمام وفاقی رکاوٹیں بھی ختم کر دی گئی ہیں، تاکہ ایندھن کی دستیابی میں اضافہ ہو سکے۔ ای پی اے کے مطابق یہ فیصلہ گرمیوں کے ڈرائیونگ سیزن سے قبل کیا گیا ہے تاکہ ملک میں پیٹرول کی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور صارفین کو زیادہ آپشنز فراہم کیے جا سکیں۔

ایرانی قیادت ڈیل کا بولے تو اپنے لوگوں، انکار کرے تو ہمارے ہاتھوں مرے گی، ٹرمپ

ای پی اے کے مطابق اس ایمرجنسی چھوٹ سے گرمیوں میں پٹرول کی مخصوص کم بخارات والی شرائط اور بلینڈنگ سے متعلق عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم ہو جائیں گی، جس سے مارکیٹ میں زیادہ لچک پیدا ہوگی اور مختلف اقسام کے ایندھن دستیاب ہوں گے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا کہ اس اقدام سے ماحولیاتی تحفظ کے موجودہ معیار متاثر نہیں ہوں گے۔


اس وقت E15 پٹرول امریکا بھر میں 3 ہزار سے زائد پٹرول پمپس پر دستیاب ہے اور اسے نسبتاً سستا ایندھن سمجھا جاتا ہے۔ ای ففٹین عام پیٹرول کے مقابلے میں 10 سینٹ فی گیلن سستا ہے۔ امریکا میں عموماً گرمیوں کے مہینوں (یکم جون سے 15 ستمبر) کے دوران ای ففٹین کی فروخت اور استعمال محدود یا ممنوع ہوتا ہے، کیوں کہ اس میں ایتھنول کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے اس کے بخارات بڑھ سکتے ہیں، جو فضائی آلودگی (اسموگ) میں اضافہ کر سکتے ہیں۔


یہ چھوٹ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگی، جب کہ اس کا ابتدائی دورانیہ 20 مئی 2026 تک ہوگا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو اسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں پھر اتار چڑھاؤ آیا ہے، امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ ایک ڈالر اضافے سے 91.2 ڈالر فی بیرل ہو گیا، عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ 1.29 ڈالر کمی کے بعد 103.2 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتائج پر انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے کی بندش تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل کو شدید متاثر کر رہی ہے، پودے لگانے کے موسم میں کھاد کی نقل و حرکت روک رہی ہے، مسائل کو کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ فوری جنگ کو ختم کیا جائے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں