لاہور : پنجاب نے تاریخ میں پہلی بار ڈرون سرویلنس کا نظام متعارف کرادیا، ڈرونز کے ذریعے ماحولیاتی شواہد، کمپلائنس رپورٹنگ اور بھٹوں کی نگرانی کو جدید بنیادوں پر ممکن بنایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) پنجاب نے ڈرون کے ذریعے ماحولیاتی نگرانی کا آغاز کردیا۔
ای پی اے پنجاب نے تاریخ میں پہلی بار ڈرون سرویلنس کا نظام متعارف کرایا، ڈرونز کے ذریعے ماحولیاتی شواہد، کمپلائنس رپورٹنگ اور بھٹوں کی نگرانی کو جدید بنیادوں پر ممکن بنایا گیا ہے۔
موٹروے کے اطراف قائم بھٹوں کی کمپلائنس اسٹیٹس جاری کیا گیا ، جس کے تحت تمام بھٹوں کو میپ کرکے انہیں انسدادِ اسموگ وار روم سے منسلک کیا گیا ہے۔
گرین فورس بھٹوں سےسیاہ دھواں خارج کرنے والوں کے خلاف متحرک ہے ، ای پی اے فورس نے بھٹوں کو زیرو پولیوشن ماڈل میں تبدیل کردیا ہے۔
گزشتہ روز 112 بھٹوں کی انسپیکشن کی گئی ، جن میں سے 77 بھٹے زِگ زیگ ٹیکنالوجی سے لیس پائے گئے، 34 نان فنکشنل جبکہ صرف ایک بھٹے سے کالا دھواں خارج ہوتا پایا گیا، اس بھٹے کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی، تاہم کسی بھٹے کو سیل یا جرمانہ نہیں کیا گیا۔
ای پی اے فورس اس وقت 24 گھنٹے بھٹوں کی چمنیوں کی نگرانی کر رہی ہے، بھٹہ مالکان اور ایسوسی ایشن کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، جس پر ای پی اے نے شکریہ ادا کیا۔
صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر سفر کے دوران کہیں کالا دھواں خارج ہوتا بھٹہ نظر آئے تو فوراً ہیلپ لائن 1373 پر اطلاع دیں، تمام بھٹے والوں کو شاباش، ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا سب کی ذمے داری ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


