جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

’جیفری ایپسٹین زندہ ہیں‘

اشتہار

حیرت انگیز

(8 فروری 2026): امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئیں حالیہ دستاویزات نے جیفری ایپسٹین کے زندہ ہونے کے دعوے کو ہوا دے دی۔

جیفری ایپسٹین کے حوالے سے جاری نئی فائلز میں فنانسر اور جنسی جرائم کے سزا یافتہ مجرم کی موت کے بعد کی لرزہ خیز تصاویر جاری کی گئیں۔ ان دستاویزات میں ایف بی آئی کی ایک تفصیلی رپورٹ شامل ہے جس میں موت کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔

تصاویر میں جیفری ایپسٹین کی لاش کو ایک اسٹریچر پر دکھایا گیا جس میں مجرم کی گردن پر زخموں کے نشانات واضح ہیں جو 10 اگست 2019 کو جیل میں بے ہوشی کی حالت میں پائے جانے کے وقت موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ناروے کی شہزادی نے جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر خاموشی توڑ دی

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا کہ خودکشی کی ایک ناکام کوشش کے بعد جیفری ایپسٹین کو کڑی نگرانی میں رکھا گیا تھا، مگر مجرم نے ماہر نفسیات کو بتایا تھا کہ اسے خودکشی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

لاش کے علاوہ ان فائلز سے جیل کے نظام کی سنگین ناکامیاں بھی سامنے آئیں جن میں دیگر مجرم کو وہاں سے ہٹا دیا جانا، گارڈز کا لازمی معائنہ نہ کرنا اور موت کی رات کیمروں کا خراب ہونا شامل ہے۔

ان دستاویزات کی اشاعت نے ایپسٹین کی موت کی حقیقت پر سوال اٹھانے والے مختلف سازشی نظریات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین نے اس کی مبینہ لاش کا اس کی پرانی تصاویر سے موازنہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ لاش کے جسمانی خدوخال مجرم سے پوری طرح میل نہیں کھاتے۔

ایک بڑا دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ لاش کی ناک کی ساخت اور ایپسٹین کی سابقہ تصاویر میں واضح فرق موجود ہے۔ آن لائن گردش کرنے والی ایک اور حالیہ افواہ جو ایپسٹین کے زندہ ہونے کے نظریے کو تقویت دے رہی ہے وہ ایک فورٹ نائٹ گیمنگ اکاؤنٹ ہے جو مبینہ طور پر ایپسٹین کے ای میل سے منسلک ہے۔

دعوؤں کے مطابق یہ اکاؤنٹ 2019 میں ایپسٹین کی تصدیق شدہ موت کے بعد بھی آج تک فعال ہے، تاہم ابھی تک ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی بھی تصدیق شدہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں