لندن (07 فروری 2026): برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایپسٹین متاثرین سے معافی مانگ لی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق سر کیئر اسٹارمر نے جمعرات کو اس بنا پر جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے معافی مانگ لی کہ انھوں نے پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں سفیر مقرر کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ ان کا جنسی مجرم ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلق رہا۔
روئٹرز کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کے روز اپنے سابق امریکی سفیر پیٹر مینڈلسن پر شدید تنقید کی۔ انھوں نے برطانوی سیاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ انھوں نے مینڈلسن کو سفیر مقرر کرنے سے پہلے اس کی ’’باتوں پر یقین‘‘ کر لیا تھا، جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئیں۔
کیئر اسٹارمر اس حوالے سے شدید دباؤ میں ہیں کیوں کہ دسمبر 2024 میں انھوں نے مینڈلسن کو واشنگٹن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا تھا، حالاں کہ اس وقت جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ مینڈلسن کے تعلقات پہلے ہی معلوم تھے۔ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کی گئی فائلوں میں ایسی ای میلز شامل تھیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تعلقات کس قدر گہرے اور تاریک تھے۔
ان دستاویزات سے یہ بھی عندیہ ملا کہ مینڈلسن نے ایپسٹین کو سرکاری دستاویزات لیک کیں، اور یہ کہ ایپسٹین نے مینڈلسن یا اُس کے اُس وقت کے پارٹنر (جو اب اس کے شوہر ہیں) کو کی گئی ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی رکھا ہوا تھا۔
ناروے کی شہزادی نے جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر خاموشی توڑ دی
جنوبی انگلینڈ میں ایک خطاب کے آغاز پر اسٹارمر نے کہا کافی عرصے سے یہ بات عوامی طور پر معلوم تھی کہ مینڈلسن، ایپسٹین کو جانتا تھا، لیکن ہم میں سے کسی کو بھی اس تعلق کی گہرائی اور تاریکی کا اندازہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ مینڈلسن، جو کہ لیبر پارٹی کے دورِ حکومت میں حکومتی وزیر رہ چکے ہیں، نے ایپسٹین اسکینڈل کے بعد منگل کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا، ہاؤس آف لارڈز، کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور اب وہ سرکاری عہدے کے دوران مبینہ بدعنوانی کے الزام میں پولیس کی تفتیش کی زد میں ہیں۔
اسٹارمر نے مینڈلسن پر تنقید کرتے ہوئے کہا مجھ سے جھوٹ بولا گیا، جھوٹ بولا گیا، دھوکا دیا گیا، لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ میں جو غصہ اور مایوسی ہے، میں اسے سمجھتا ہوں، درحقیقت میں خود بھی اس غصے اور مایوسی میں شریک ہوں۔ ایپسٹین کے متاثرین سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا ’’آئی ایم سوری، آپ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اس پر مجھے افسوس ہے، اس پر افسوس ہے کہ اختیار رکھنے والے اتنے لوگوں نے آپ کو ناکام کیا، اور اس بات پر بھی افسوس ہے کہ میں نے مینڈلسن کے جھوٹ پر یقین کیا اور انھیں مقرر کیا۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2009 میں مینڈلسن نے ایک سرمایہ کار (فنانسر) کو ممکنہ برطانوی اثاثہ جات کی فروخت اور ٹیکس میں تبدیلیوں سے متعلق ایک سرکاری یادداشت بھیجی تھی، جب کہ 2010 میں انھوں نے یورپی یونین کے قرض بحران کے دوران 500 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکج کے بارے میں ایپسٹین کو پیشگی اطلاع دی تھی۔
اگرچہ اسٹارمر نے گزشتہ ستمبر میں مینڈلسن کو برطرف کر دیا تھا، تاہم ان کے مخالفین اور حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ حالیہ انکشافات نے اسٹارمر کے فیصلے اور فہم و فراست پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسٹارمر پہلے ہی برطانوی عوام میں بے حد غیر مقبول ہیں، اور ان کی اپنی پارٹی کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کا عہدہ خطرے میں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


