site
stats
عالمی خبریں

سعودی عرب اسلامی ممالک کو قریب لانے میں کردار ادا کرے‘ تر ک صدر

Erdogan

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ قطر کی حمایت جاری رکھی جائے گی‘ دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے آپس میں اتفاق انتہائی ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپنی سیاسی جماعت آق پارٹی کے استنبول ضلعی مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک افطار پروگرام سے خطاب میں اردوان نے کہا کہ شام، عراق، یمن، افغانستان، میانمار اور اب قطر میں پیش آنے والے واقعات کسی کے لیے بھی سو د مند ثابت نہیں ہوں گے لہذاان تمام مسائل کا جلد از جلد حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ قطر کی جانب سے دہشت گردو کی مدد کی جارہی ہو‘ لہذا ترکی حالیہ عرب تنازعے میں دوحہ کی حمایت جاری رکھے گا۔

رجب اردوغان نے سعودی عرب سے تناؤ میں کمی اور پابندیوں میں نرمی کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائیوں کی لڑائی میں کوئی بھی فاتح نہیں ہوتا‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم خادمین ِ حرمین شریفین ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب سے امید کرتے ہیں کہ وہ برادر اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے اقدامات کرے۔


قطر میں غذائی قلت‘ ایران اور ترکی کی امداد


ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ ہم ہر صورت قطر کی امداد جاری رکھیں گے ‘ اگر انہیں خوراک اور پانی کی ضرورت ہوگی تو ہم انہیں فراہم کریں گے اور اگر انہیں دوائیاں درکار ہوں گی تو ہم لے کر پہنچیں گے۔

سعودی عرب سمیت سات ممالک کی جانب سے قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد قطر میں خوراک کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، قطر کی سپر مارکیٹیں خالی ہونے لگی ہیں، گاہکوں کو بڑے بڑے سپر اسٹور میں بنے ہوئے شیلف خالی نظر آرہے ہیں اور وہ ہر طرف اشیا کی خریداری کے لیے بھاگ دوڑ میں نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا، مالدیپ اور یمن نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے قطر سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں جس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ قطر دہشت گردوں کو سپورٹ کررہا ہے۔

قطر میں سال 2022ء میں فٹ بال ورلڈ کپ منعقد ہونا ہے اور وہ بھی مشکلات کا شکار ہوگیا ہے، فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے آٹھ نئے اسٹیڈیم بنائے جارہے ہیں،سرحدی بندشیں، تعمیراتی میٹریل آنے میں تاخیر اور راستے طویل ہونے سےسامان کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top