The news is by your side.

Advertisement

استنبول کے میئر کو نظرانداز کیے جانے پر ایردوآن پر شدید تنقید

استنبول:ترکی کے بڑے تجارتی اور سیاحتی مرکز استنبول شہر کے میئر اور حزب مخالف کے رہ نما اکرم امام اوگلو نے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے ان کی بلدیہ کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امام اوگلو نے کہا کہ جمعرات کو استنبول میں آنے والے ریکٹر اسکیل پر پانچ اعشاریہ سات شدت کے زلزلے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز استنبول سے 80 کلومیٹر مغرب میں بحر مرمرہ کے ساحل پر واقع سیلویری میں آنے والے ایک زلزلے نے اس شہر کی تقریبا 15 ملین آبادی کو متاثر کیا اور زلزلے کے نتیجے میں 8 افراد معمولی زخمی بھی ہوئے۔

زلزلے کے بعد نائب صدر فواد اقطائی کی زیر صدارت ترک حکام نے قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی)کے رہ نما جو جون میں استنبول کے میئر منتخب ہوئے تھے نے کہا کہ انہوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی کیونکہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے استنبول میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں ریاستی عہدیداروں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ انتخابات ختم ہوچکے ہیں ،میری ترجیح زلزلہ ہے، آئیں مل کر اس کا حل تلاش کریں۔

امام اوگلو کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب حزب اختلاف نے استنبول کا کنٹرول سنبھالا ہے۔ گذشتہ 25 سال سے استنبول پر صدر رجب طیب اردوآن کی پارٹی کی اجارہ داری رہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں