ترک صدر اردوگان نے عہدہ چھوڑیا‘ لیکن کس کے لیے؟ -
The news is by your side.

Advertisement

ترک صدر اردوگان نے عہدہ چھوڑیا‘ لیکن کس کے لیے؟

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوگان نے ترکی میں بچوں کے قومی دن کے موقع پراپنی صدارتی نشست ایک چوتھی کلاس کے طالب علم کے لیے چھوڑدی۔

یہ خوش گوارواقعہ گزشتہ روز ترکی میں بچوں کے دن کے موقع پر پیش آیا‘ یاد رہے کہ ترکی واحد ملک ہے جو بچوں کا دن قومی سطح پر مناتا ہے۔

ترکی کے مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق جب دس سالہ صدرِ مملکت سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ (اے کے) پارٹی کی قیادت سنبھالنا پسند کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’’ہاں! اگر اجازت ہوتو کیوں نہیں‘‘۔

ایغیت ترک نامی چوتھی جماعت کے طالب علم کے جواب پر صدر اردوگان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ترک کہہ رہے ہں کہ ’’اگر اجازت ہو تو‘‘ ، تو’’ یہ ضرور اس نشست پر بیٹھ سکتا ہے‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی نشست اس کے حق میں خالی کردی۔

نشست چھوڑنے سے قبل انہوں نے بچوں کے قومی دن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اس دنیا کا واحد ملک ہے جو یہ دن قومی سطح پر مناتا ہے۔

ننھے صدر کی پریس کانفرنس


جب ایغیت ترک سے کیبنٹ کی نئی صف بندی کے بارے میں سوال کیا گیا انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ آج کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے‘‘۔

ترک جس کی عمرابھی محض 10 سال ہے ‘ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا ممبر بننے کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال ہے اور میں ابھی صرف دس سال کا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد اپنے ملک و قوم کی خدمت کرسکوں‘‘۔

کم عمر بچے نے یہ بھی کہا خلافتِ عثمانیہ کے عظیم سلطان محمت نے 12 سال کی عمر میں تاج اپنے سر پر رکھا تھا اور محض 21 سال کی عمر میں استنبول جو کہ اس وقت قسطنطیہ کہلاتا تھا فتح کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ جب سے ترکی عوامی جمہوریہ بنا ہے تب سے ہر سال 23 اپریل کو بچوں کا قومی دن مناتا آرہا ہے‘ اس موقع پر ایک ہفتے تک تقریبات جاری رہتی ہیں جن میں بچوں کو مستقبل کے قومی اثاثے کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ جب سے ترکی عوامی جمہوریہ بنا ہے تب سے ہر سال 23 اپریل کو بچوں کا قومی دن مناتا آرہا ہے‘ اس موقع پر ایک ہفتے تک تقریبات جاری رہتی ہیں جن میں بچوں کو مستقبل کے قومی اثاثے کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں