The news is by your side.

Advertisement

ترک اور روسی صدر کا ادلب سے متعلق معاہدوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ

انقرہ: شام میں روس سے کشیدگی پر ترکی نے امریکا سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ روسی اور ترک صدر نے تناؤ کو کم کرنے کے لیے معاہدوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں بشارالاسد اور اس کے روسی حلیف کی جانب سے بمباری اور پرتشدد کارروائیوں سے ایک اور انسانی بحران کی پیدا ہوتی صورتحال پر صدر رجب طیب اردوان نے روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلیفونک گفتگو میں ترک صدر نے پیوٹن پر واضح کیا کہ ادلب میں اسد حکومت کے اقدامات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کو وہیں روکا جائے اور سوچی معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر نے آخری وارننگ دیدی

اس سے قبل جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور فرانسیسی صدر ماکرون نے روسی صدر سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ملاقات کرکے شام میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے صدر اردوان کی خواہش کے مطابق کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب انقرہ نے ادلب میں ترکی کی قائم کردہ مانیٹرنگ چوکیاں ہٹانے کی روسی درخواست مسترد کردی ہے جب کہ کشیدگی کے باعث امریکا سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترک افواج مکمل طور پر تیار ہے اور کسی شب اچانک پرانی روایت کے مطابق فوجی آپریشن شروع کردے گا، ادلب سے متعلق اپنے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں، اس علاقے میں بشار الاسد اور اس کے حلیف روسی افواج نے پچھلے معاہدوں کے باوجود شہری املاک پر حملے کیے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ یہ میری طرف سے آخری وارننگ سمجھیں، سچ بتاؤں تو ادلب آپریشن بس کچھ وقت کی بات ہے، ہم ادلب کو بشار الاسد اور اس کے حواریوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں