ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ غزہ کے عوام تک مزید انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے مگر اسرائیلی حکومت اسے روکنے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا استنبول میں سالانہ COMCEC اقتصادی تعاون سربراہی اجلاس کے موقع پر او آئی سی رکن ممالک کے مندوبین سے خطاب میں کہنا تھا کہ حماس غزہ جنگ بندی پر عمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
رپورٹس کے مطابق رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو فلسطین کی تعمیرِ نو میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عرب لیگ اور او آئی سی کے تیار کردہ تعمیرِ نو کے منصوبے پر فوری عملدرآمد ضروری ہے۔
واضح رہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر مشاورت کے لیے ترکیے آج سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کر رہا ہے۔
اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اسرائیل کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور ہم غزہ کے لیے پریشان ہیں، غزہ کی عوام کے زخموں پر مرحم رکھنے اور وہاں تعمیر نو کی ضرورت ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کا ترک افریقہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے حماس اور اسرائیلی کے درمیان معاہدے کے لیے سخت کوششیں کی تھیں تاکہ غزہ میں امن قائم ہوسکے اور وہاں کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
اسرائیل سے ملنے والی لاشیں خوفناک حالت میں تھیں، غزہ وزارت صحت
صدر طیب اردوان نے مزید کہا کہ وہ سوڈان میں جاری بحران پر پریشان ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہاں امن قائم ہوجائے۔
انہوں نے مغربی دنیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ برِاعظم افریقہ میں تنازعات اور خانہ جنگی ہو رہی ہے، لیکن یہ کچھ نہیں کرتے۔


