The news is by your side.

Advertisement

امریکی دباؤ کے باوجود ترکی کا روسی دفاعی میزائل نظام خریدنے کا فیصلہ

انقرہ: امریکا کی جانب سے شدید دباؤ کے باوجود ترک حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ روسی دفاعی میزائل نظام ہرصورت خریدا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ ماہ ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اعلان کیا تھا کہ روس سے دفاعی میزائل نظام خریدیں گے جس پر امریکا نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ترک صدر نے امریکی دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا ہے، اور باور کرایا ہے کہ روس سے ہونے والا معاہدہ جلد عمل میں لایا جائے گا۔

رجب طیب اردوگان کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ روسی ایس 400 ڈیفنس میزائل نظام کی ترسیل رواں برس جولائی تک شروع ہو جائے گی۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی حکام نے ترکی کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ اس ڈیل کی وجہ سے ترکی اپنی نیٹو کی رکنیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

امریکا سمیت نیٹو کے دیگر رکن ممالک بھی اپنے اپنے تحفظات و خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ترکی اپنے اس فیصلے سے پیچھے نہ ہٹنے پر بضد ہے۔

روسی میزائل دفاعی سسٹم کی خریداری سے امریکا کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا: ترکی

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں امریکی وزارت خارجہ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ جب تک انقرہ روس سے ایس 400 میزائل دفاعی سسٹم کی خریداری کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوتا اس وقت تک ترکی کا ایف 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کا معاملہ خطرے میں رہے گا۔

امریکی وزارت خارجہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے روس سے یہ نظام خریدا تو وہ امریکی قانونی بل کے تحت پابندیوں کا شکار ہوگا، بل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں دستخط کیے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں