The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے، غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام ناقابل برداشت ہے، ترک صدر

استنبول : ترک صدر طیب اردوان نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام ناقابل برداشت ہے، جب تک اپنے حقوق خود نہیں لیں گے کوئی ہمیں نہیں دےگا، صرف مذمت فلسطینی قتل عام اسرائیلی قبضے کو ختم نہیں کرسکتی۔

تفصیلات کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینوں کے قتل عام کے بعد ترکی کی میزبانی میں او آئی سی کا غیرمعمولی اجلاس ہوا ، جس میں 18 سربراہان مملکت سمیت  48اسلامی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

او آئی سی کے اجلاس میں اسرائیل مظالم کی مذمت اورفلسطینیوں سے مکمل اظہاریکجہتی کیا گیا۔

ترکی کے صدر طیب اردوان نے او آئی سی کے اجلاس کے افتتاحی خطاب میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فسلطینیوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کو غیرقانونی قرار دے دیا اور کہا کہ اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے، بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام پراسرائیل کااحتساب ہونا چاہئے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کیخلاف کھڑا ہوکرثابت کرنا ہوگا دنیا میں انسانیت زندہ ہے، اسرائیل نے جو کیا وہ بدمعاشی، ظلم اور ریاستی دہشت گردی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب تک اپنے حقوق خود نہیں لیں گے کوئی ہمیں نہیں دےگا، صرف مذمت فلسطینی قتل عام اسرائیلی قبضے کو ختم نہیں کرسکتی، مسلمان اسرائیل کیخلاف عملی اقدام کی طر ف دیکھ رہےہیں، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل مظالم کو بند کرنا ہوگا۔


مزید پڑھیں : القدس کے امتحان میں صر ف عالم اسلام نہیں، پوری دنیا ناکام ہوئی:اردوان کا ریلی سے خطاب


طیب اردوان نے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

دوسری جانب اوآئی سی کے اعلامیہ میں امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس کی منتقلی کومسلم امہ کیخلاف اشتعال انگیزی اوردشمنی قرار دیتے ہوئے فلسطینوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لئے عالمی ماہرین کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں کے مظاہرے جاری ہیں، پاکستان میں یوم یکجہتی فلسطین منایا گیا، نمازجمعہ کے بعد مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں