The news is by your side.

Advertisement

شام میں سیکیورٹی زون کے قیام پر ٹرمپ اور صدر اردوگان درمیان ٹیلی فونک رابطہ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر طیب اردوگان کے درمیان خانہ جنگی کا شکار ملک شام میں سیکیورٹی زون کے قیام کےلیے رابطہ ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق شام اور عراق میں برسرپیکار دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جاری جنگ میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں امن و امان کی بحالی کےلیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شام میں سیکیورٹی زون کےلیے قیام کے سلسلے میں ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر کے درمیان شام کی بدلتی صورتحال اور خطے کو درپیش مسائل کے حوالے سے تبادلہ ہوا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردوں کے خلاف مشترکا جدوجہد اور شامی بحران کے سیاسی حل پر زور دیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اردوگان نے ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی افواج کے انخلاء پر رضا مندی اظہار کیا، دونوں رہنماؤں نے 75 ارب ڈالر کے تجارتی اہداف کے حصول کےلیے روٹ میپ پر بھی گفتگو کی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور طیب اردوگان نے غیر کسی نقصان کے اہداف حاصل کرنے کےلیے لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا، جسے عملی جامہ پہنانے کےلیے قائم مقام امریکی وزیر دفاع، چیف آف جنرل اسٹاف اور جنرل جوزف ڈنفورڈ رواں ہفتے اپنے ہم منصبوں سے امریکی دارالحکومت میں ملاقات کریں گے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوج واپس بلانے کا اعلان کردیا

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ ہم نے داعش کو شکست دے دی، اور آئندہ 30 دنوں میں امریکی فورسز شام سے نکل جائیں گی۔

مزید پڑھیں : صدر ٹرمپ سے اختلافات، امریکی وزیر دفاع مستعفی ہوگئے

شام سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس اور دولت اسلامیہ مخالف اتحاد کے خصوصی ایلچی بریٹ میکگرک نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ داعش کے خلاف شام میں صدر باراک اوبامہ نے پہلی مرتبہ سنہ 2014 میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور 2015 کے اواخر میں اپنے 50 فوجی بھیج کر باضابطہ شام کی خانہ جنگی میں حصّہ لیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں