The news is by your side.

انسانی شخصیت اور غیر محسوس دیوتا!

اب تک کی انسانی تاریخ میں اتھارٹی ہمیشہ واضح اور ٹھوس صورت میں موجود رہی ہے۔ انسان کو معلوم رہا ہے کہ اسے کس کے احکامات کی تکمیل کرنی ہے۔ مثلاً باپ، بادشاہ، استاد، آقا، خدا اور مذہبی راہ نما وغیرہ۔

بلاشبہ ادوارِ گزشتہ میں بھی ہر قسم کی اتھارٹی کو چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ مگر خود اتھارٹی کا وجود مشتبہ نہیں رہا۔ تاہم صدی رواں کے وسط میں اتھارٹی کی ماہیت بنیادی تغیر سے گزری ہے۔ اب وہ پہلے کی طرح واضح اور ٹھوس نہیں رہی بلکہ تجریدی اور برگشتہ اتھارٹی بن گئی ہے۔ اس اتھارٹی کو چھوا جا سکتا ہے اور نہ ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اب تار بنانے والا نظر نہیں آتا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہر کوئی اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا ہے۔ یہ تار ہلانے والا کون ہے، یہ منافع ہے۔ معاشی ضروریات ہیں۔ منڈی ہے۔ فہمِ عامہ ہے۔ رائے عامہ ہے۔ یہ ہیں نئے انسان کے نئے آقا، یہ کھل کر سامنے آتے ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف بغاوت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔

انسانی شخصیت ان غیر محسوس دیوتاؤں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر اپنے تخلیقی امکانات کی تکمیل کے محرکات سے محروم ہو گئی ہے۔ نئے آقا انسان کو ہجوم میں گم ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ انفرادیت جیسی کوئی شے باقی نہیں رہی۔ حالانکہ گزشتہ صدی کے بورژوا اس کا چرچا کرتے نہ تھکتے تھے۔ انفرادیت کا خاتمہ تو ناگزیر تھا کہ برگشتہ انسان کسی طور اپنا سامنا نہیں کر سکتا کہ اس قسم کی دہشت برداشت کرنا اس کے بس کا روگ نہیں۔

تجریدی اتھارٹی اور اس کی خود کارانہ اطاعت اصل میں بڑی حد تک سُپر کیپٹیلزم کے اندازِ پیداوار سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ پیداوار کا جدید انداز مشین سے فوری مطابقت، منظم اجتماعی رویہ، اجتماعی اور بلا تشدد اطاعت کا طلب گار ہے۔ ایرک فرام نے اس معاشی نظام کے ایک ناگزیر نتیجہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس کا تعلق اشیا کے وسیع پیمانے پر استعمال سے ہے۔ جدید معاشی نظام کی اس ضرورت نے نئے انسان کی شخصیت کو اس طرح ڈھال دیا ہے کہ اب وہ اپنی کسی خواہش کی عدم تکمیل کو گناہِ کبیرہ خیال کرنے لگا ہے۔ اس کا راہ نما اصول یہ ہے کہ کوئی خواہش نہیں دبانی چاہیے۔ ہر خواہش کی فوری تکمیل ہونی چاہیے۔

ہر خواہش کی فوری تسکین کے اصول نے سپرکیپٹیلزم میں انسان کے جنسی رویّوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ عموماً اس کا جواز فرائڈ کے فکری نظام کی عامیانہ توضیحات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ خیال عام ہے کہ اگر کوئی جنسی خواہش دبائی گئی تو بہت سی نفسیاتی بیماریوں کا دروازہ کھل جائے گا۔ ان سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی جنسی خواہش کو تشنۂ تکمیل نہ رہنے دیا جائے۔ ایرک فرام کے نزدیک اس رویے سے وہی نتیجہ پیدا ہوتا ہے جو تجریدی اتھارٹی کی اطاعت سے پیدا ہوا ہے، یعنی انسان کی ذات اپاہج ہو کر بالآخر فنا ہو گئی ہے۔

انسانی شخصیت کو نکھارنے کے لیے بہت سی خواہشات پر غالب آنا ضروری ہوتا ہے۔ خصوصاً بیمار معاشرے میں ایسی خواہشات کی تعداد خوف ناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ ان مصنوعی خواہشات کی تسکین کے چکر میں گرفتار ہو کر انسان غیر حقیقی مسرت اور ہوس کا پجاری بن جاتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ خواہشات کی فوری تسکین کی خاطر زیادہ سے زیادہ محنت کرتا ہے۔ فی الواقعہ یہ خواہشات معاشی نظام کی ہی پیداوار ہوتی ہیں۔ یوں روح اور جسم دونوں اعتبار سے انسان معاشی نظام کے جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس انسان دشمن نظام نے انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ نئے انسان نے فہم و دانش اور ضمیر کے میدان میں پیش قدمی کی ہے۔ مگر یہ محض خوش فہمی ہے۔ بجا طور پر ایرک فرام ہماری توجہ اس امر کی طرف دلاتا ہے کہ جدید انسان ذہانت کے اعتبار سے آگے بڑھا ہے۔ البتہ جہاں تک فہم و دانش کا معاملہ ہے، وہ روز بروز پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔

ایرک فرام کے نزدیک ذہانت سے مراد کسی عملی مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر اشیا اور تصورات کو چالاکی سے استعمال کرنے کی اہلیت ہے۔ اس لحاظ سے وہ بندر بھی ذہین ہے جو دو جھڑیوں کو ملا کر درخت سے پھل اتار لیتا ہے۔ اس کے برعکس دانش اشیا کو کسی مقصد کی خاطر استعمال کرنے سے زیادہ انہیں سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ صداقت کی جستجو پر مبنی ہے۔ تاہم نئے انسان کو اشیا کی ماہیت اور حقیقت سے دل چسپی نہیں۔ وہ انہیں محض استعمال کرنے کے جنون میں مبتلا ہے۔

دانش بھرپور انسانی شخصیت کا خاصہ ہے۔ اس لیے نئے انسان کو اس سے چڑ ہے۔ وہ اکثر اوقات اس کا تمسخر اُڑاتا ہے۔ فلسفہ، ادب، ادب عالیہ اور فنونِ لطیفہ اس کے نزدیک بے کاروں کے مشاغل ہیں۔ اگر اس نے مارکسیوں کے چند سیاسی نعرے سن رکھے ہیں تو وہ فوراً انہیں جاگیردارانہ عہد کے امرا اور ان کے مفت خور حاشیہ نشینوں کے چونچلے قرار دے دے گا۔

انسان لائقِ فروخت بن جائے تو کسی معجزے کے ذریعے بھی ضمیر باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سرمایہ دارانہ نظام میں انسان ضمیر کی کوئی خلش محسوس نہیں کرتا۔ بس چین کی بانسری بجاتا ہے۔ ضمیر کے ساتھ اخلاقیات بھی رخصت ہوتی ہے۔ دونوں کا چرچا باقی رہ جاتا ہے۔

(قاضی جاوید کی پُرفکر تحریر بعنوان ” ایرک فرام اور انسانی ذات کا ارتقا“ سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں