منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

ارنسٹ ہیمنگوے: نوبیل انعام یافتہ ناول نگار

اشتہار

حیرت انگیز

ہیمنگوے نے کئی کہانیاں لکھیں اس نے بہت سے کردار تخلیق کیے اور امریکہ کے مقبول فکشن نگاروں میں اس کا نام لیا جانے لگا۔ ہیمنگوے کی زندگی بھی ایک خوب صورت کہانی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا انجام درد ناک ہوا۔ ارنسٹ ہیمنگوے کی پیدائش پر اس کے باپ نے مسرت اور شادمانی کا اظہار باقاعدہ بگل بجا کر کیا تھا۔ مشہور ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھ گیا اور اہلِ محلّہ کو متوجہ کرکے بتایا کہ وہ ایک بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ اس کے بیٹے ادب کی دنیا میں‌ بڑا نام کمایا اور نوبیل انعام پایا۔ ہیمنگوے نے 1961ء میں آج ہی کے روز خود کشی کرلی تھی۔

یہ عجیب بات ہے کہ ہیمنگوے کے باپ اور دادا بھی طبعی موت نہیں مرے تھے۔ انھوں نے بھی خود کشی کی تھی۔ ہیمنگوے 21 جولائی 1899ء کو ایک تعلیم یافتہ اور فنونِ لطیفہ کے شیدائی گھرانے میں‌ پیدا ہوا تھا۔ والد کلارنس ایڈمونڈس ہیمنگوے پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اور علم و فن کے قدر دان بھی۔ ہیمنگوے کی ماں گریس اپنے قصبے کی ایک مشہور گلوکار اور موسیقار تھی۔ یہ خاندان امریکا کے شہر شکاگو کے مضافات میں‌ سکونت پذیر تھا۔ ہیمنگوے کے والد سیر و سیّاحت اور مہم جوئی کا شوق رکھتے تھے۔ وہ اپنے بیٹے کو بھی اکثر پُرفضا مقامات کی سیر اور شکار کی غرض سے اپنے ساتھ لے جاتے۔ ہیمنگوے نے انہی سے جنگل میں‌ کیمپ لگانا، چھوٹے جانوروں کو شکار کرنا اور دریا سے مچھلی پکڑنا سیکھا۔ یوں اسے شروع ہی سے فطرت کے درمیان وقت گزارنے اور مختلف نوع کی مخلوقات اور جنگلی حیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اپنے انہی تجربات کو اس نے اپنی کہانیوں میں جگہ دی۔ ہیمنگوے نے ناول اور مختصر کہانیاں لکھنا شروع کیں تو امریکہ میں جلد ہی اسے مقبولیت حاصل ہوگئی۔

زمانۂ طالبِ علمی میں‌ ارنسٹ ہیمنگوے نے اسکول میگزین اور اخبار کے لیے کام کیا اور اس عرصہ میں جو کچھ سیکھا وہ گریجویشن کی تکمیل کے بعد یوں کام آیا کہ اسے ایک اخبار میں بطور رپورٹر رکھ لیا گیا۔ یہاں‌ ارنسٹ ہیمنگوے کو معیاری کام اور عمدہ تحریر کو سمجھنے اور لکھنے کے ساتھ مضمون نگاری کا موقع ملا۔ وہ ایک ایسا صحافی اور لکھاری تھا جو کھیل کود اور مہم جوئی کے دلدادہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے ان تجربات کو تحریروں میں شامل کرکے انھیں دل چسپ بنا دیتا تھا۔ اس نے مختلف اخبارات کے لیے مضمون لکھے جو قارئین میں‌ مقبول ہوئے۔ 1921ء میں شادی کے بعد وہ پیرس منتقل ہوگیا اور وہاں‌ بڑے بڑے ادیبوں سے ملاقات اور بزم آرائی نے ہیمنگوے کو ناول نگاری کی طرف راغب کیا۔ پیرس میں‌ اس کے شہرۂ آفاق ادیب ایذرا پاؤنڈ، جیمز جوائس اور دیگر کے ساتھ دوستانہ مراسم ہوگئے اور ہیمنگوے ان سے بھی اپنی تحریروں پر داد اور حوصلہ افزائی سمیٹنے لگا۔ اس نے مختصر کہانیاں‌ لکھنے کا آغاز کیا تو جلد ہی پیرس اور امریکہ میں مقبول ہوگیا۔ 1926ء میں ہیمنگوے کا پہلا ناول دی سن آلسو رائزز منظرِ عام پر آیا اور بطور ناول نگار ہیمنگوے کو بہت پسند کیا گیا۔ بعد میں‌ ایک اور ناول ڈیتھ ان آفٹر نون بھی قارئین کی توجہ کا مرکز بنا۔ ہیمنگوے نے اسپین، فرانس اور دیگر ممالک کا سفر کیا اور وہاں‌ قیام کے دوران بھی انگریزی ادب کو شاہ کار کہانیاں دیتا رہا۔ ان کہانیوں پر وہ فکشن کا پلٹزر پرائز اور بعد میں‌ ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے میں کام یاب ہوا۔ اس کے متعدد ناولوں کے تراجم مختلف زبانوں میں‌ کیے گئے جن میں اردو بھی شامل ہے۔

ارنسٹ کی زندگی بہت ہنگامہ خیز اور تیز رفتار رہی۔ اس نے رومانس کیا اور ایک نہیں کئی لڑکیوں سے محبت کی، اور اسی طرح شادیاں بھی۔ ملکوں ملکوں‌ سیر و سیاحت کا شوق پورا کرنے کے علاوہ میدانِ جنگ میں‌ ایک فوجی کی حیثیت سے بھی حصّہ لیا۔ وہ بل فائٹنگ دیکھنے کا شوقین تھا اور اس کھیل کو اپنے ایک ناول کا حصّہ بھی بنایا۔ ہیمنگوے کی کچھ عجیب و غریب عادات بھی مشہور ہیں‌۔ کہتے ہیں ارنسٹ ہیمنگوے اکثر جب عام روش سے ہٹ کر کچھ لکھنا چاہتا یا وہ اپنی تحریر سے متعلق بہت حساسیت کا مظاہرہ کرتا تو کھڑے ہو کر لکھنے لگتا تھا۔ ارنسٹ ہیمنگوے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا ٹائپ رائٹر اور پڑھنے کے بورڈ کو اتنا اونچا رکھتا تھا کہ وہ اس کے سینے تک پہنچتا تھا۔ غالباً اس طرح وہ لکھتے ہوئے پُرسکون اور یکسوئی محسوس کرتا ہو۔

وہ ایک اچھا نشانہ باز تھا یا نہیں‌، مگر اس کی بندوق سے نکلنے والی گولی کئی جانوروں کو نشانہ ضرور بنا چکی تھی۔ البتہ یہ کوئی نہیں‌ سوچ سکتا تھا کہ ہیمنگوے ایک روز اپنی ہی شاٹ گن سے اپنی زندگی بھی ختم کر لے گا۔

اہم ترین

مزید خبریں