The news is by your side.

Advertisement

پارٹی میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنے کی سزا ملی،ارم عظیم فاروقی

کراچی : سابق رکن صوبائی اسمبلی ارم عظیم فاروقی نے کہا کہ مجھے پارٹی میں موجود کرپٹ مافیا کی نشاندہی کرنے کی سزای دی گئی ہے, ایم کیو ایم میں دوبارہ شمولیت نہ کرنے کا فیصلہ استخارہ کی بنیاد پر کیا۔

وہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن کے سوالوں کا جواب دے رہی تھیں انہوں نے کہا کہ سلمان مجاہد بلوچ نے میرے خلاف باقاعدہ مہم چلائی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے میں انہیں سلمان مجاہد بلوچ کہنا پسند نہیں کرتی کیوں کہ ان کے والد مجاہد بلوچ ایک نفیس انسان ہیں۔

ارم عظیم فاروقی نے انکشاف کیا کہ فاروق ستار اور کامران ٹیسوری سمیت ایم کیو ایم پاکستان کے سرکردہ رہنما 22 اگست کے بعد مجھے منانے کے لیے آئے تھے اور ان سب کی خواہش تھی کہ میں دوبارہ سے پارٹی جوائن کروں اور اپنی خدمات بہ طور رکن صوبائی اسمبلی جاری رکھوں۔

ایک سوال کے جواب میں سابق رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ سلمان مجاہد کو میری وجہ سے پارٹی سے نہیں نکالا گیا بلکہ ان کی کرپشن اور لوٹ مار نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے، کوئی سلمان مجاہد سے پوچھے کہ میں تو پہلے ہی پارٹی سے نکل چکی تھی میں انہیں کیسے نکلوا سکتی ہوں؟

ارم عظیم فاروقی نے کہا کہ مجھ پر الزمات لگانے سے پہلے سلمان بلوچ کو اپنے رویے اور سیاہ کرتوتوں پر نظر ڈالنی چاہیئے وہ کس طرح بلدیہ ٹاؤن کے ایک چھوٹے سے گھر سے اُٹھ کر آج ڈیفینس میں ایک عالیشان گھر میں رہائش پذیر ہیں جب کہ میں جب ایم کیو ایم میں آئی تھی تو اس وقت بھی ڈیفینس میں ہی رہتی تھی۔

پارٹی سربراہ فاروق ستار سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ارم عظیم فاروقی کا کہنا تھا کہ فاروق بھائی کو اچھے انسان ہیں اور انہیں بااختیار موجودہ ایم کیو ایم کے رہنما ہی بناسکتے ہیں جس کے لیے انہیں کلین لوگوں پر مشتمل قیادت تشکیل دینی ہوگی اور مافیا سے جان چھڑانی ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں نے دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان کو جوائن نہیں کیا اور جب میں نے دو بار استخارہ کیا تھا تو دونوں بار شمولیت کے لیے انکار آیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے اپنا ارادہ ملتوی کیا اور ایم کیو ایم میں دوبارہ شمولیت نہیں کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں