The news is by your side.

Advertisement

ایتھوپیا میں بغاوت، آرمی چیف فائرنگ سے ہلاک، بغاوت ناکام

ادیس ابابا: ایتھوپیاکی ریاست امہارامیں گزشتہ روز ہونے والی بغاوت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، ایتھوپین آرمی چیف کو ان کے دفتر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے تصدیق کی ہے کہ ایتھوپین آرمی چیف اور ان کےایڈوائزر کے دفتر پر فائرنگ کی گئی ہے اور انہیں گولی لگی ہے، گولی لگنے سے آرمی چیف ہلاک ہو گئے۔

قبل ازیں آرمی چیف جنرل سیرے مکنون کی زندگی کے مطابق متضاد اطلاعات سامنے آرہی تھیں، برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق وہ زخمی تھے جب کہ الجزیرہ کا کہنا تھا وہ اس حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اس بغاوت میں امہارا کے صدر اور ان کے مشیر سمیت اب تک کئی اعلیٰ حکام مارے جاچکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امہارا کے پایہ تخت باہر دار میں ایتھوپین آرمی چیف کو ان کے دفتر میں گھس کر ان کے محافظ نے مارا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایتھوپین حکومت نے اعلان کیا تھا کہ امہارا میں بغاوت ہوئی ہے جس سے نبٹا جارہا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امہارا میں بڑے پیمانے پر گولیوں کا تبادلہ جاری ہے اور شہر میں خوف و ہراس کی فضا ہے ، شہری اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے جبکہ علاقے میں نظام زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

یا در ہے کہ ایتھوپین وزیر اعظم احمد گزشہ سال منتخب ہوئے تھے اور ملک میں جاری سیاسی انتشار کے خاتمے کے لیے انہوں نے سیاسی قیدیوں کو آزادی دی، سیاسی جماعتوں پر سے پابندی اٹھائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز بھی کیا تھا۔

ان تما م اقدامات کے باوجود ایتھوپیا میں نسلی تصادم ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 24 لاکھ افراد اس صورتحال میں در بدر ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں