The news is by your side.

Advertisement

یورپی یونین نے جنگ بندی کا مطالبہ کردیا

برسلز: افغانستان میں قیام امن کے لیے یورپی یونین نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے تھے کہ اچانک صدر ٹرمپ نے بات چیت منسوخ کردی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

موجودہ سنگین صورت حال کے باعث یورپین یونین نے زور دیا ہے کہ فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی راہ اپنائیں، اور نئے سرے سے بات چیت کا آغاز کریں۔

یورپی یونین کے سفیر رولینڈ کوبیا کا کہنا تھا کہ مذاکرات تو ناکام ہوگئے لیکن اب جنگ بندی پر غور کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ بات چیت کے لیے راہیں ہموار ہوسکیں۔

رولینڈ کوبیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ طالبان سے بات چیت کے لیے اہم کردار ادا کریں۔

ادھر امريکی وزير دفاع مارک ايسپر افغانستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ کابل میں افغان صدر اشرف غنی سمیت دیگر حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں جس کا مقصد خطے میں قیام امن کے لیے معاہدہ طے کرنا ہے۔

کابل: سفارتی علاقے میں خود کش حملہ، دس افراد ہلاک

یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں امریکا نے طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری میٹنگ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات طے شدہ تھی، میٹنگ بلانے کا آئیڈیا بھی میرا تھا اور اس کو منسوخ کرنے کا بھی، یہاں تک میں نے کسی اور سے اس پر تبادلہ خیال نہیں کیا تھا۔

بات چیت کے خاتمے کے بعد طالبان نے اپنے حملوں میں اضافہ کردیا، امریکی سفارت خانے کے قریب راکٹ حملہ بھی ایک ایسے وقت میں ہواجب امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت مکمل طور پر ختم ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں