The news is by your side.

Advertisement

روس کے خلاف یورپی ممالک کا سخت ایکشن

یوکرین کے شہر بوچا میں قتل عام کے باعث روس کے خلاف متعدد یورپی ممالک نے سخت ایکشن لے لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی نے چالیس، فرانس نے پینتیس، اٹلی نے تیس اور اسپین نے پچیس روسی سفارت کاروں اور سفارتی عملے کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔

یورپ کے دیگر ممالک نے بھی سفارت کاروں کو بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک نے پندرہ روسی انٹیلی جنس افسروں پر جاسوسی کا الزام لگا کر ملک چھوڑنے کا حکم دی ہے۔

دو دنوں میں نکالے گئے روسی سفارت کاروں اور عملے کی تعداد دو سو پچیس تک پہنچ گئی ہے۔ روس کی ہیومن رائٹس کونسل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کل ہوگی۔

یورپی یونین کی جانب سے اس اقدام پر روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان ڈمتری پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ متعدد یورپی ممالک سے روسی سفارت کاروں کی اس وسیع پیمانے پر بے دخلی ایک تنگ نظری کا ثبوت ہے جو ہمارے اور اُن کے درمیان مواصلات کو پیچیدہ بنا دے گی۔

ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کا یہ فیصلہ لامحالہ انتقامی اقدامات کا باعث بنے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ روس پر پابندیوں سے یورپ میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے، اس کی وجہ یہ پابندیاں یورپ کی معیشت پر بھی اثر انداز ہورہی ہیں، یورپ میں بھی اقتصادی ترقی کو ”سخت منفی اثرات“ جھیلنے پڑیں گے۔

یورپی یونین کے ادارے یورپی کمیشن فار ٹریڈ والدیس دومبرووسکس نے کہا تھا کہ اب مہنگائی میں اضافہ ہوگا، ساتھ ہی توانائی اور خوراک کی قیمتوں پر بڑا دباؤ آئے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں