The news is by your side.

Advertisement

یورپی عدالت نےملازمین کےحجاب پہننے پر پابندی عائد کردی

بیلجیئم : یورپ کی اعلی ترین عدالت نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ملازمین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی جسے امتیازی سلوک نہیں سمجھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق یورپین کورٹ آف جسٹس نے اپنے فیصلے میں اسلامی حجاب سمیت دیگر مذہبی، سیاسی اور فلسفہ و نظریات کی ترجمانی کرنے والے یا علامتی لباس و حجاب وغیرہ زیب تن کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔


*لندن: مسلمان خاتون کا حجاب اتارنے اور سڑک پر گھسیٹنے کی کوشش


عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی پابندی تمام ملازمین کے مکمل طور پرغیر جانب دارانہ لباس پہننے کی پالیسی پرمبنی ہونی چاہیے۔


*امریکہ: مسلمان طالبہ پر تین افراد کا حملہ، حجاب اتارنے کی کوشش


واضح رہے کہ اس مقدمے کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بیلجیئم میں واقع ایک معروف کمپنی نے اپنے صارف کی شکایت پر ایک خاتون ریسیپشنسٹ کے حجاب پہننے پر ملازمت سے فارغ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھے کہ کمپنی کے صار فین کو حجاب پہنی ملازمین سے الجھن اور پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔


*ٹرمپ کے حامی کا باحجاب مسلم ایئر ہوسٹس پر تشدد


خاتون ریسپشنسٹ نے عدالت سے رجوع کیا جس پر یہ مقدمہ بیلجیئم کی عدالت نے یورپین کورٹ آف جسٹس میں بھیج دیا تھا جہاں آج اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔


*برطانوی وزیراعظم نےحجاب پہننے کی حمایت کردی


واضح رہے کہ آج کل حقوقِ اظہارِ رائے اور حقوقِ نسواں کے علم بردار ممالک میں بنیاد پرستی اور انتہا پرستی کی آڑ میں اسلامی تشخص حجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کئی ممالک کی درس گاہوں اور دفاتر میں حجاب پہننے کی پابندی پہلے ہی لگائی جا چکی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں