دوحہ (19 مارچ 2026): ایران کی جانب سے قطر کی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد یورپ میں قدرتی گیس کی قیمت میں ایک ہی دن میں 35 فی صد اضافہ ہو گیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیوں کہ خلیجِ فارس میں ایران کی جانب سے توانائی کے بنیادی مقامات پر حملوں کے باعث دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کنندہ پلانٹ کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی میزائل حملوں نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے، جس کی وجہ سے یورپی گیس فیوچرز کی قیمتیں تقریباً پینتیس فی صد تک بڑھ گئیں اور یہ جنگ سے پہلے کی سطح سے دوگنا ہو گئی ہیں۔
قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹس کو ایران کے میزائل حملوں سے نقصان پہنچا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی برآمدی تنصیبات میں آگ لگی ہے، اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
قطر سے گیس کی فراہمی پہلے ہی معطل تھی، تازہ حملوں کے بعد فراہمی کی بحالی میں مزید تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ابوظبی کے حبشان گیس فیلڈز بھی حملوں کے بعد بند کر دیے گئے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر گیس کی دستیابی مزید محدود ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے صورت حال برقرار رہی تو یورپ میں گیس کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔ نقصانات کی مکمل تفصیلات اور بحالی کے وقت کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہ آ سکی ہیں۔ اس تنصیب کا حصّہ دنیا کی گلوبل ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فی صد بنتا ہے، جس کی وجہ سے سپلائی میں خلل کا اثر عالمی سطح پر محسوس ہونے کے امکانات ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


