The news is by your side.

Advertisement

یورپی یونین کا تارکین وطن سے متعلق معاہدے پر اتفاق

برسلز : یورپی یونین کے اجلاس میں سربراہان کا تارکین وطن سے متعلق ’یورپی ممالک میں مہاجرین کے تمام کیمپ بند کرکے یورپ سے باہر پناہ گزین کیمپ لگانے‘ پر اتفاق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق برسلز میں جاری 12 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد یورپی ممالک کے سربراہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپ میں موجود مہاجرین کے تمام کیمپوں کو بند کرکے یورپی یونین سے باہر ایک عارضی کیمپ بنایا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق پناہ گزینوں سے متعلق معاہدے میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ یورپی ممالک میں داخلے کی اجازت دی جائے یا نہیں دی جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے اجلاس کے دوران سربراہان مملکت نے پناہ گزینوں سے متعلق فیصلہ سرحدوں پر بڑھتی ہوئی غیر قانونی مہاجرین کی تعداد اور یورپی ممالک میں پیدا ہونے معاشی و سیکیورٹی مسائل کے باعث کیا گیا ہے۔

یورپی میڈیا کا کہنا تھا کہ یورپی رہنماؤں کے اجلاس میں یورپ کو لاحق سیکیورٹی مسائل، تارکین وطن کی آباد کاری اور دیگر مضوعات کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رات بھر چلنے والے یورپی کونسل کے کامیاب اجلاس کے بعد یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین پناہ گزینوں سمیت کئی معاملات پر متفق ہوگئی ہے۔

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کے رکن ممالک غیر قانونی طور پر یورپی سرحدوں کو عبور کرنے والے تارکین وطن کے معاملے پر مستقبل میں بھی مفاہمت سے کام لیں گے‘۔

انجیلا میرکل کا کہنا تھا کہ ’اجلاس کے دوران طے پانے والے مختلف نکاتی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کافی کچھ کرنا پڑے گا‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یورپی ممالک کے سربراہوں نے ترکی کے ساتھ  2016 میں تارکین وطن سے متعلق طے پانے والے معاہدے کی 3 سو ارب ڈالر کی دوسری قسط دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ انجیلا میرکل کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا، کیوں کہ پناہ گزنیوں کے معاملے پر یورپی یونین میں مشترکہ حل کے بغیر میرکل کی حکومت کو شدید خطرات لاحق تھے۔

خیال رہے کہ جرمن چانسلر اور جرمن وزیر داخلہ ہورست زیہوفر کے درمیان تارکین وطن سے متعلق معاملات پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔ ہورست زیہوفر کا مؤقف ہے کہ جرمنی کے علاوہ یورپ کے کسی اور ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے مہاجرین کو جرمنی میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے، جبکہ میرکل مستقل ان کی مخالفت کرتی آرہی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں