The news is by your side.

Advertisement

یورپی یونین روسی تیل پر پابندی کیوں نہیں لگا سکی؟

برسلز : دنیا کے 27 ممالک کا اتحاد یورپی یونین روس سے تیل خریدنے پر پابندی لگانے کے فیصلے پر متفق نہ ہوسکی، رہنماوں کا کہنا ہے کہ فی الحال اس نکتے پر متفق ہونے میں وقت لگے گا۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کا دو روزہ ہنگامی سربراہی اجلاس برسلز میں جاری ہے، جس میں روس سے تیل خریدنے پر پابندی اور روسی توانائی پر انحصار تیزی سے کم کرنے کیلئے مشترکہ لائحہ اپنانے پر غور کیا گیا ہے، تاہم یورپی ممالک روسی تیل پر پابندی لگانے کے معاملے پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔

یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اب بھی بحث جاری ہے، امید ہے جلد ہی تمام ممالک کسی معاہدے پر متفق ہوجائیں گے۔
اس حوالے سے اسٹونین کے وزیر اعظم کاجا کالس نے کہا کہ ہم اس اجلاس میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، کوشش کریں گے کہ جون میں ہونے والے سربراہی اجلاس تک کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کا اگلا اجلاس 23-24 جون کو ہونے والا ہے۔

لیٹویا کے وزیر اعظم کریسجنیس کارنس نے کہا کہ ہم تمام معاملات میں تھوڑا سا الجھے ہوئے ہیں اور ہم بڑے ایشو کو بُھول رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی عوام اس کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یوکرینی عوام کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ جب روس کو شکست دی جائے گی تو ہم یورپ میں خود کو محفوظ تصور کرسکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ یہ آسان فیصلے نہیں ہیں تاہم اس حوالے سے اگلے چند ہفتوں میں فیصلہ کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ یورپی یونین کے ستائیس رکن ممالک کے سفارت کار ہنگامی سربراہی اجلاس سے قبل روسی تیل پر پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر اختلاف رائے ختم نہیں کر سکے ہیں۔

اجلاس سے قبل ہی روسی تیل کی درآمد پر پابندیوں کی نئی تجویز کو ہنگری کی جانب سے بلاک کیا جا رہا ہے۔ ہنگری کا زیادہ تر انحصار روس سے درآمد تیل پر ہے اور وہ 65 فیصد تیل روس سے خریدتا ہے، ہنگری کا موقف ہے کہ تیل کی درآمد پر پابندی ان کی معیشت کیلئے مہلک ثابت ہوگی۔

یاد رہے کہ امریکی خام تیل 4 فیصد اضافے سے 119 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل 2 فیصد اضافے سے 124 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔

پابندی کے نتیجے میں روس سے تقریباً 75 فیصد تیل کی درآمدات متاثر ہوگی، مالی مشکلات میں گھرے پاکستان پر مزید دباؤ بڑھے گا، حکومت پہلے ہی پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 30 روپے بڑھا چکی ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں