سنہ 2050 - یورپ میں مسلمانوں کی آبادی تین گنا بڑھ جائے گی -
The news is by your side.

Advertisement

سنہ 2050 – یورپ میں مسلمانوں کی آبادی تین گنا بڑھ جائے گی

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ سنہ 2050 تک یورپ کے کچھ ممالک میں مسلم آبادی میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا ۔ دنیا کی آبادی آئندہ 40 سالوں میں 9.3 ارب تک پہنچ جائے گی اور مسلمانوں کی تعداد میں 73 فیصد تک کا اضافہ ہوگا جس کے سبب2050 سے 2070 تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔

واشنگٹن میں واقع پیو ریسرچ سینٹر کی گزشتہ سال جاری کردہ تحقیق کا تجزیہ کرنے پر سامنے آیا ہے کہ 2050 تک بھارت انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ کر پوری دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک بن جائے گا اور پوری دنیا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہو جائے گی۔

اس وقت دنیا کی تیسری سب سے بڑی آبادی ہندو مذہب کے ماننے والوں کی ہوگی اور بھارت میں ہندوؤں ہی کی اکثریت رہے گی۔اگلی چار دہائیوں میں عیسائی مذہب سب سے بڑا مذہبی گروہ بنا رہے گا لیکن کسی بھی مذہب کے مقابلہ اسلام سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھے گا۔

یورپ میں مسلمانوں کی مجموری آبادی انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے تاہم اس میں مشرقی یورپ اور مغربی یورپ کی تفریق واضح ہے۔ جرمنی میں اس وقت مسلمان کل آبادی کا 6.1 فیصد ہیں اور اگر موجودہ صورتحال کی طرح جرمنی ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو سنہ 2050 میں مسلمان آبادی کا لگ بھگ 19.7 فیصد حصہ ہوں گے۔ دوسری جانب پولینڈ میں یہ شرح محض 0.1 فیصد سے بڑھ کر 0.2 فیصد ہوجائے گی ۔

یورپ میں مسلم آبادی


پیوریسرچ سنٹر کی جانب سے جاری کردہ اعدا د و شمار کے مطابق سال 2016 میں مسلمان یورپ کی آبادی کا کل 4.9 فیصد تھے اور ان کی تعداد تیس ملکوں میں 25.8 ملین کے قریب تھی۔ سنہ 2010 میں یورپ میں موجود مسلمانوں کی تعداد19.5 فیصد تھی یعنی کہ چھ سال میں یورپ کی مسلمان آبادی میں لگ بھگ 60 لاکھ مسلمانوں کا اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ یورپی تجزیہ نگاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

سنہ 2014 سے لگ بھگ ہر سال کم از کم پانچ لاکھ مسلمان عراق‘ شام اور افغانستان سے یورپ پہنچ کر پناہ گزین ہورہے ہیں جس کے سبب مسلمان آبادی کی شرح میں یہ تیز ترین اضافہ دیکھا گیا۔

واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں عیسائیت سب سے بڑا مذہب ہے اور اس کے بعد مسلمان آتے ہیں اور تیسری سب سے بڑی آبادی ایسے لوگوں کی ہے جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو2050 سے 2070 تک اسلام سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔

دنیا کی کل آبادی


اندازہ ہے کہ اگلے چار عشروں میں دنیا کی آبادی 9.3 ارب تک پہنچ جائے گی اور مسلمانوں کی آبادی میں 73 فیصد کا اضافہ ہو گا، جب کہ عیسائیوں کی آبادی 35 فیصد بڑھے گی اور ہندوؤں کی تعداد میں 34 فیصد اضافہ ہو گا۔

اس وقت مسلمانوں میں بچے پیدا کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے یعنی اوسطاً ہر خاتون 3.1 بچوں کو جنم دے رہی ہے، عیسائیوں میں ہر خاتون اوسطاً 2.7 بچے کو جنم دے رہی ہے اور ہندوؤں میں بچے پیدا کرنے کی اوسط شرح 2.4 ہے۔

سنہ 2010 میں پوری دنیا کی 27 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر کی تھی، وہیں 34 فیصد مسلمان آبادی 15 سال سے کم کی تھی اور ہندوؤں میں یہ آبادی 30 فیصد تھی۔ اسے ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کے مقابلے زیادہ تیز رفتار سے بڑھے گی اور ہندوؤں اور عیسائیوں اسی رفتار سے بڑھیں گی جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی یہودیوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ بچے پیدا کرنے کی شرح کے علاوہ آباديوں میں اس الٹ پھیر کی وجہ تبدیلیِ مذہب کو بھی بتایا جا رہا ہے۔

آنے والے عشروں میں عیسائی مذہب کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے اور کہا گیا ہے کہ چار کروڑ افراد عیسائی مذہب اپنا لیں گے وہیں دس کروڑ 60 لاکھ لوگ اس مذہب کو چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح ایک کروڑ 12 لاکھ لوگ اسلام کو اپنائیں گے وہیں تقریباً 92 لاکھ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں