The news is by your side.

Advertisement

یورپی ممالک نے روس کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

روس کی جانب سے گیس کی قیمت مقامی کرنسی روبل میں ادائیگی کے مطالبے کو اہم یورپی ممالک جرمنی اور اٹلی نے تسلیم کرلیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی اور اٹلی نے قومی کمپنیوں کو قدرتی گیس کی فراہمی میں کٹوتی سے بچنے کیلیے روس کے گیز پروم بینک میں روبل میں اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد اب روس کو یہ ممالک گیس کی ادائیگی روبل میں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدام پولینڈ، بلغاریہ اور حال ہی میں فن لینڈ کی جانب سے روس کے نئے ادائیگی کے طریقہ کار کو قبول کرنے سے انکار کے بعد سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں روس نے ان ممالک کو گیس کی ترسیل روک دی ہے۔ آؤٹ لیٹ کے مطابق اس اقدام کی منظوری برسلز نے یورپی کمیشن کے ساتھ بات چیت کے بعد دی تھی اور اسے یوکرین کے تنازع پر یورپی یونین نے ماسکو پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں سمجھا۔

روس کی جانب سے گیس کی قیمت کی نئی ادائیگی کی اسکیم ان غیر دوست ممالک کے لیے ہے جنہوں نے روس کے گیزرپروم بینک میں اکاؤنٹس کھولنے کیلیے روس پر پابندیاں عائد کی ہیں جس کے بعد وہ اپنی پسند کی کرنسی میں رقوم جمع کرسکتے ہیں جسے بینک روبل میں تبدیل کرکے گیزپروم میں منتقل کردیتا ہے۔

اس حوالے سے جرمن گیس کے درآمد کنندگان کو برلن نے مطلع کیا ہے کہ وہ روسی گیس کی ادائیگی کے لیے روبل اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں جب تک کہ وہ گیزپروم بینک کو جو ادائیگیاں کرتے ہیں وہ روسی کرنسی میں نہ ہوں۔ اٹلی حکومت بھی مبینہ طور پر یورپی کمیشن کے ساتھ بات چیت کررہی ہے جس کے بعد اطالوی توانائی کمپنی ای این آئی نے اعلان کیا کہ اس نے روسی بینک میں اکاؤنٹس کھولنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: روس کا جوابی وار، دو یورپی ملکوں کی گیس بند کر دی

واضح رہے کہ روس روبل میں ادائیگی نہ کرنے پر پولینڈ اور بلغاریہ کو گیس کی فراہمی بند کرچکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں