یورپی ملک ہالینڈ کی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو حکام نے بڑا ریلیف دیتے ہوئے 10 سال وہاں رہائش کی شرط ختم کردی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈچ حکومت نے دوہری شہریت سے متعلق قوانین تو تبدیل نہیں کررہی مگر تارکین وطن کو ایک بڑی سہولت فراہم کردی ہے، تمام غیر ملکیوں کے لیے ڈچ بنتے وقت پرانے قوانین کو تبدیل نہیں کیا گیا تاہم ملک میں 10 سال کی رہائش کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
بیرون ملک مقیم ڈچ شہری جرمنی، بیلجیئم، فرانس اور برطانیہ کے لوگوں کے مقابلے میں "جلد” اپنے اپنے ڈچ پاسپورٹ محروم نہیں ہوں گے، لیکن نیدرلینڈز میں نئے آنے والے جو نیدرلینڈز کی شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں اپنی دوسری قومیت ترک کرنا ہوگی۔
عملی طور پر اس کا اب بھی یہی مطلب ہے کہ نیدرلینڈز اور آسٹریا واحد یورپی یونین کے ممالک ہیں جہاں اب بھی دوہری شہریت کی اجازت نہیں دینے کے حق میں یں۔
جرمنی نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت لوگ جرمن ہونے پر اپنی اصل قومیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ اصل میں ڈچ ہیں انھیں ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے کی اجازت دینا امتیازی سلوک ہوگا لیکن نئے ڈچ شہریوں کو اس کی اجازت حاصل نہیں ہوگی۔
لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں فلورنس میں یورپی یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ میں شہریت سے متعلق پروفیسر مارٹن وِنک کے مطابق، قومیت کے قانون کو تبدیل کرنے کے لیے اگلی ڈچ حکومت کے منصوبے "مبہم، اخلاقی طور پر متضاد اور عملی طور پر ناممکن” ہیں۔
امیگریشن کے وکیل جیریمی بیئرباخ کا کہنا ہے کہ "اس سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیرملکی پناہ گزینوں کی ضروریات کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


